ATTENTION EDITORS - VISUAL COVERAGE OF SCENES OF INJURY OR DEATH Iraqi Federal Police inspect the bodies of Islamic State fighters at Dawasa district as the battle against Islamic State's fighters continues in the city of Mosul, Iraq, March 22, 2017. REUTERS/Youssef Boudlal TEMPLATE OUT TPX IMAGES OF THE DAY - RTX324QP
عراقی فوج نے شمالی شہر موصل کے مغربی حصے میں ایک تباہ شدہ عمارت سے اکسٹھ لاشیں برآمد کرنے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ اس عمارت کو داعش نے کھلونا بم سے دھماکے سے تباہ کیا ہے جبکہ عمارت کو فضائی حملے سے نشانہ بنانے کا کوئی نشان نہیں ملا ہے۔
عراقی فوج نے یہ بیان مقامی عہدہ داروں اور عینی شاہدین کی ان اطلاعات کے بعد جاری کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ہفتے امریکا کی قیادت میں اتحاد کے ایک فضائی حملے میں تباہ شدہ عمارت سے دو سو لاشیں نکالی گئی ہیں۔اتحادی طیارے نے موصل کے علاقے الجدیدہ میں داعش کے جنگجوؤں کو حملے میں نشانہ بنایا تھا۔
اس بمباری کے حوالے سے اب تک متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں اور میڈیا کے آزاد ذرائع سے ان دعووں کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔عراقی فوج نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ تباہ شدہ عمارت کے نزدیک سے بارود سے بھری ایک گاڑی بھی ملی ہے اور علاقے میں داعش نے کھلونا بم بھی نصب کررکھے ہیں۔
امریکا کی قیادت میں اتحاد نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے داعش کے جنگجوؤں اور ان کے سازوسامان پر الجدیدہ کے علاقے میں حملہ کیا تھا اور وہیں سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ اس حملے کی ابھی تک تصدیق کی جارہی ہے۔اتحاد نے ہلاکتوں اور ہدف کی بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی تھی۔
عراقی فوج کی کمان کے مطابق عینی شاہدین نے فوجیوں کو بتایا ہے کہ اس عمارت میں کھلونا بم نصب کیے گئے تھے اور داعش کے جنگجو تہ خانے میں رہنے والے لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔انھوں نے اس عمارت سے فوجیوں پر فائرنگ بھی کی تھی۔
موصل کی بلدیہ کے ایک اہلکار کہا تھا کہ ملبے سے 240 لاشیں نکالی گئی ہیں۔ایک مقامی قانون ساز اور دو عینی شاہدین کا بھی کہنا تھا کہ اتحادی طیارے نے ممکنہ طور پر ایک ٹرک بم کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہوگا اور اس کے نتیجے میں زور دار دھماکے میں عمارت تباہ ہو گئی تھی۔
عراقی سکیورٹی فورسز کی مغربی موصل کے قدیم حصے کی تنگ و تاریک گلیوں میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں پیش قدمی رُک چکی ہے اور انھوں نے گذشتہ روز داعش کے خلاف لڑائی عارضی طور پر روک دی ہے۔اس نے یہ فیصلہ شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے پیش نظر کیا ہے۔
مغربی موصل سے جانیں بچا کر راہ فرار اختیار کرنے والے مکینوں نے بتایا ہے کہ عراقی طیاروں اور امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں میں بہت زیادہ عمارتیں اور مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں اور ان میں شہریوں کی سیکڑوں کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ داعش کے جنگجو شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور اگر وہ ان کے زیر قبضہ علاقوں سے بھاگ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں گولیوں کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…