امریکی اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ عراقی سیکیورٹی فورسز کی درخواست پر شہریوں کی ہلاکت کے باعث موصل میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری روک دی۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی اتحادی افواج کی جانب سے گزشتہ ہفتے موصل میں کی جانب والی بمباری کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے جب کہ عراقی فورسز نے ہلاکتوں کو سانحہ قرار دیتے ہوئے اتحادی افواج سے درخواست کی کہ موصل میں بمباری روکی جائے جس پر اتحادی افواج نے موصل میں داعش کے خلاف کارروائی روک دی۔
اتحادی افواج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں ماہ کے شروع میں داعش کے خلاف کی گئی کارروائی کے دوران غیر ارادی طور پر شہری آبادی اس کے زد میں آئی جس میں 220 افراد ہلاک ہوئے جب کہ دیگر کارروائیوں میں شہری آبادی کی ہلاکت کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ دوسری جانب موصل کی جوڈیشل کونسل نے شہر کو آفت زدہ علاقہ قرار دینے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے وحشیانہ قتل کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے عراق میں اگست 2014 سے داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور اتحادی افواج کی بمباری کے نتیجے میں مقامی فوج کو داعش کے خلاف کارروائی میں مدد مل رہی ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…