’’میری بیوی مجھے بہت تنگ کرتی ہے۔ خرچے بھی زیادہ کرواتی ہے اور اطاعت بھی بہت کم ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ دوسری شادی کرلوں!‘‘ احمد صاحب نے بالآخر مدعا بیان کرہی دیا۔ موصوف گھریلو حالات سے پریشان تھے اور مناسب مشورے کے لیے حاضر ہوئے تھے۔ کچھ دیر وہ اپنے پریشان کن گھریلو حالات بیان کرتے رہے اور پھر انہوں نے خود ہی حل تجویز کیا کہ میں دوسری شادی کرلیتا ہوں۔ بندہ نے جواباً عرض کیا: ’’دیکھیں! ایک اصول ہمیشہ ذہن میں رکھیں۔ کسی ایشو کو ختم کرنے کے لیے نیا ایشو نہ چھیڑا کریں۔‘‘ میں نے مزید سمجھایا: ’’دیکھیں! ایک سے زیادہ شادی کرنا جائز اور مسنون ہے، لیکن اس وقت آپ اسے سنت کی نیت سے نہیں کررہے، بلکہ اپنی اہلیہ کا دماغ ٹھیک کرنے کے لیے کررہے ہیں۔ ظاہر ہے ایسا کرنا آپ کے پچھلے ایشو کو تو شاید حل نہ کرے، لیکن اتنی بات تو طے ہے کہ بلاسوچے سمجھے دوسری شادی آپ کے لیے ایک مستقل اور نیا ایشو بن جائے گا، لہٰذا سردست آپ پہلی بیوی کے ساتھ خوشگوار زندگی کے لیے تدابیر اختیار کریں اور جب اطمینان ہو تو سنت کی نیت سے دوسری شادی بھی ضرور کریں۔‘‘
یہ واقعہ یوں یاد آیا کہ آج کل دہشت گردی کی تازہ لہر کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر آپریشن شروع ہورہا ہے۔ اس مرتبہ اس آپریشن کا نام ’’ردالفساد‘‘ رکھا گیا ہے۔ یقینا فوج کی سابقہ کوششوں اور کامیابیوں کے پیش نظر پوری توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ تمام عمل پیشہ وارانہ طریقۂ کار اور دیانت دارانہ کردار کے تحت ہوگا۔ نیز اس کی اہمیت بھی اپنی جگہ واضح ہے، کیونکہ پے درپے حملوں کی وجہ سے پاکستان کا ایک محفوظ ریاست کا تصور پھر سے پروپیگنڈا کی زد میں آرہا ہے۔ ایسے میں فوج اگر حرکت میں نہ آئے تو اس کی کئی سال کی محنت ڈوب سکتی ہے۔ اس کے لیے سرحدی پابندیاں بھی ضروری تھیں، کیونکہ داخلی طور پر دہشت گرد عناصر کمزور ہونے کے بعد سرحد پار کے تعاون بلکہ راہنمائی کے بغیر مؤثر کارروائیاں کرنا ممکن نہیں، لیکن فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور دیانت پر پورا اعتماد ہونے کے باوجود بعض زمینی حقائق کی وجہ سے نئے ایشوز کا امکان بہرحال رہتا ہے۔ ہمارا دیانتدارانہ مشورہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا اصول کو ضرور مدنظر رکھا جائے یعنی اس ایشو کو ضرور ختم کیا جائے، لیکن پوری کوشش کی جائے کہ نیا ایشو پیدا نہ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ ہم ایک ایشو سے نکلیں تو دوسرے میں الجھ کر رہ جائیں۔
IDP’s کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ فوج تو ایمرجنسی میں کارروائی پر مجبور تھی، لیکن سول حکومت کے پاس بھی کوئی طے شدہ کرائسز مینجمنٹ کا طریقہ نہ تھا،
چنانچہ IDP’s بڑے پیمانے پر مشکلات کا شکار رہے۔ ان کے کاروبار اور تعلیم تو متاثر ہوئے ہی، اخلاق اور کلچر کو بھی خطرے پیش آنے لگے۔ ان خیمہ بستیوں کی محرومیوں کے تسلسل کی وجہ سے معاشرے میں منفی کردار پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اسی طرح آپریشن کے ذریعے گو دہشت گرد اور بھتہ خور عناصر کی سرکوبی ہوئی ہے اور ٹارگٹ کلرز بھی کمیاب ہوگئے ہیں، لیکن اس دوران پولیس کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے رشوت کا بازار پہلے سے زیادہ گرم ہے، بلکہ نئے قوانین کی وجہ سے پولیس میں موجود منفی کردار بے خوف ہوکر عوام کو ڈراسکتے ہیں، لہٰذا پولیس کی تنخواہیں اور تربیتی سیشنز بڑھاکر، نیز ان کا محاسبہ سخت بنائے بغیر یہ بہت مشکل ہے کہ بے گناہ لوگوں کو خاص طور پر دینی رجحان والے لوگوں کو پولیس کے خوف سے بچایا جاسکے۔ اسی طرح افغان بارڈر کو بند کرنے کا فیصلہ گو ضروری تھا، لیکن جن لوگوں کے کاغذات پورے تھے، ان کو سرحدپار جانے کی اجازت ملنا چاہیے تھی، چنانچہ بہت سے لوگ متاثر ہوئے۔ اس کا واضح نقصان یہ ہے کہ برطانوی خبررساں ادارے نے ایک تحریک کے طو رپر ایسے لوگوں کی رپورٹیں دینا شروع کی ہیں جو اس فیصلے سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے پاکستان کی ساکھ مسلسل متاثر ہورہی ہے۔
خلاصہ یہ کہ دہشت گردی کے ایشو کو ضرور ختم کیا جائے، لیکن ایسے حالات پیدا ہونے سے بچاجا ئے جس سے معاشرے میں محروم طبقے پیدا ہوں اور غیرملکی ایجنسیوں کو انہیں استعمال کرنے کا موقع پیش آئے۔ نیز اس بات کی بھی اہمیت ہے کہ اس مرتبہ دہشت گردی کو صرف ’’مذہبی‘‘ افراد کا مسئلہ نہ باور کروایا جائے، بلکہ سیاسی دہشت گردی اور فکری دہشت گردی کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ ایسی جماعتیں جو نظریہ پاکستان یا آئین پاکستان کے خلاف تاریخی ریکارڈ رکھتی ہیں ان سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اپنے ماضی سے براء ت اور پاکستان سے بے لوث تعلق کا اظہار کریں تاکہ آیندہ عوام ان سے سوچ سمجھ کر معاملہ کیا کریں۔ امید ہے کہ ہم زمینی حقائق کا حکمت و فراست سے خیال رکھیں گے تو دہشت گردی کا ایشو بھی ختم ہوگا اور نئے ایشو بھی پیدا نہ ہوں گے۔
تحریر: مفتی فیصل احمد
ہفت روزہ ضرب مؤمن