اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے واضح کیا ہے کہ جماعت اسلامی جہاد کے ساتھ مل کر فلسطینی اتھارٹی کی انتقامی سیاست کا مقابلہ کرے گی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی انتقامی سیاست کے خلاف اسلامی جہاد کے موقف کی حمایت کرتے ہیں اور دونوں جماعتیں رام اللہ اتھارٹی کی انتقامی پالیسیوں کی مل کر مزاحمت کریں گی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی انتقامی سیاست کے خلاف حماس اور اسلامی جہاد کا موقف ایک ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے غرب اردن میں حماس اور اسلامی جہاد دونوں کے رہ نماؤں اور کارکنوں کو انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھا رہی ہے۔
ترجمان نے مطالبہ کیا فلسطینی اتھارٹی غرب اردن میں سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن بند کرے اور گرفتار کیے گئے تمام کارکنان کی رہائی کا حکم دے۔
حماس کے ترجمان نے فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں پابند سلاسل فلسطینی سیاسی کارکنوں پر روزانہ کی بنیاد پر جاری وحشیانہ تشدد کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ رام اللہ اتھارٹی غرب اردن میں سیاسی انتقامی پالیسیوں کو فروغ دے کر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید