اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے واضح کیا ہے کہ جماعت اسلامی جہاد کے ساتھ مل کر فلسطینی اتھارٹی کی انتقامی سیاست کا مقابلہ کرے گی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی انتقامی سیاست کے خلاف اسلامی جہاد کے موقف کی حمایت کرتے ہیں اور دونوں جماعتیں رام اللہ اتھارٹی کی انتقامی پالیسیوں کی مل کر مزاحمت کریں گی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی انتقامی سیاست کے خلاف حماس اور اسلامی جہاد کا موقف ایک ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے غرب اردن میں حماس اور اسلامی جہاد دونوں کے رہ نماؤں اور کارکنوں کو انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھا رہی ہے۔
ترجمان نے مطالبہ کیا فلسطینی اتھارٹی غرب اردن میں سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن بند کرے اور گرفتار کیے گئے تمام کارکنان کی رہائی کا حکم دے۔
حماس کے ترجمان نے فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں پابند سلاسل فلسطینی سیاسی کارکنوں پر روزانہ کی بنیاد پر جاری وحشیانہ تشدد کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ رام اللہ اتھارٹی غرب اردن میں سیاسی انتقامی پالیسیوں کو فروغ دے کر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…