ترک وزارت دفاع نے خواتین فوجی افسران کے دوران ڈیوٹی اسکارف پہننے پر عائد تاریخی پابندی اٹھا لی۔
ترکی کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق وزارت دفاع کی جانب سے خواتین فوجی افسران کے دوران ڈیوٹی اسکارف پہننے پر عائد پابندی فوری طور پر اٹھالی گئی ہے جس کے بعد خواتین فوجی افسران اب دوران ڈیوٹی بھی اسکارف پہن سکیں گی، فیصلے کا اطلاق جنرل اسٹاف ، کمانڈ ہیڈ کوارٹر اور اس کی شاخوں پر فرائض انجام دینے والی افسران پر ہوگا۔
اسکارف پہننے سے متعلق جاری فیصلے میں خواتین افسران کو پابندی کیا گیا ہے کہ وہ یونیفارم کے رنگ سے ملتا جلتا اسکارف پہننے کی پابند ہوں گی تاہم انہیں چہرہ چھپانے کی اجازت نہیں ہوگی البتہ اسکارف پہننے کے بعد اس پر روایتی فوجی کیپ پہننا بھی لازم ہوگا۔
واضح رہے کہ ترک حکومت نے 2013 میں سرکاری تعلیمی اداروں میں خواتین کے اسکارف پہننے پر پابندی اٹھائی جس کے بعد گزشتہ سال اگست میں پہلی مرتبہ محکمہ پولیس میں خواتین کو اسکارف پہننے کی اجازت دی گئی اور اسے باقاعدہ طور پر وردی کا حصہ بنالیا۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید