اسرائیلی فوج اور پولیس کے حصارمیں یہودی شرپسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے قبلہ اول پر دھاوے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔
گزشتہ روز 102 یہودی شرپسندوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسلمانوں کے تاریخی مقدس مقام کی بے حرمتی کے اشتعال انگیز اقدام کا ارتکاب کیا۔ علاوہ ازیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس شہر میں 15 سال بعد رہا ہونے والے فلسطینی شہری کے استقبال کیلیے لگایا گیا کیمپ اکھاڑ پھینکا اور استقبال کے لیے جمع ہونے والے شہریوں پر وحشیانہ تشدد کرکے انھیں منتشر کردیا۔
دریں اثنا اسرائیلی فوج نے غرب اردن میں مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہرالخلیل میں قائم فلسطینی حکومت کے ریجنل ہیڈ کوارٹر پردھاوا بول کرعملے کو زدوکوب کیا اورتلاشی کے دوران توڑپھوڑ کے ساتھ لوٹ مار بھی کی۔
دوسری جانب انسانی حقوق تنظیموں نے فلسطینی نوجوان کے وحشیانہ قتل کے جرم میں اسرائیلی فوجی کوصرف 18ماہ قید کے عدالتی فیصلے پر تنقید کی ہے اور اس فیصلے کو انصاف کا قتل قرار دیدیا۔
واضح رہے کہ ایک ہفتے کے دوران 156 یہودی آباد کاروں، 85 یہودی طلبا اور 43 اسرائیلی فوجی وردیوں میں ملبوس اہلکاروں نے قبلہ اول کی بے حرمتی کی جب کہ بدھ کو یہودی شرپسند مراکشی دروازے سے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کی جس کے بعد قابض پولیس اور فوج نے فلسطینی محافظوں کو مسجد کے داخلی اور خارجی دروازوں سے دور ہٹا دیا۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان