- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

ہندوستانی فورسز کی فائرنگ سے 6 کشمیری جاں بحق

کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 6 کشمیری نوجوان جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
ضلع کولگام میں پیش آنے والے واقعے میں 2 بھارتی فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سری نگر میں بھارتی فوج کے ترجمان کرنل منیش نے ہلاک ہونے والے چار کشمیریوں کو ‘دہشت گرد’ قرار دیا اور بتایا کہ جس مقام پر مقابلہ ہوا وہاں سے چار ہتھیار بھی برآمد ہوئے۔
ایک پولیس افسر نے بتایا کہ مشتبہ شدت پسند جنوبی کشمیر کے ایک گاؤں میں چھپے ہوئے تھے اور اطلاع ملنے پر آرمی اور پولیس نے گاؤں کا محاصرہ کرلیا اور اس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 4 مشتبہ شدت پسند اور دو فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔
کرنل منیش نے بتایا فائرنگ میں دو عام شہری بھی ہلاک ہوئے جن میں اس گھر کے مالک کا بیٹا بھی شامل ہے جس میں شدت پسند چھپے ہوئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ علاقے میں اب بھی آپریشن جاری ہے۔
ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تین مشتبہ شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پولیس مقابلے کے بعد مقامی افراد نے احتجاج شروع کردیا جسے روکنے کے لیے بھارتی فورسز نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔
بھارتی فورسز کی کارروائی سے احتجاج کرنے والے 25 افراد زخمی ہوگئے جن میں سے 12 کو گولیاں بھی لگیں۔
علاقے میں صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔
خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ برس 8 جولائی کو بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپوں کے دوران نوجوان کشمیر برہان الدین وانی کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔
آئے دن کشمیر میں ہنگامے اور مظاہرے ہوتے ہیں، مظاہرین پر بھارتی فوج کی جانب سے تشدد اورفائرنگ کی رپورٹیں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔
بھارت کی جانب سے کئی ماہ تک مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کیا گیا، جب کہ بھارتی فوج کی جانب سے پیلٹ گنوں کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا، جس سے سینکڑوں کشمیری لوگ بینائی سے محروم ہوگئے۔
مختلف عالمی میڈیائی رپورٹس کے مطابق ہندوستانی فوج کی جانب سے استعمال کی گئی پیلٹ گنوں سے کم سے کم 700 سے زائد کشمیری بینائی سے محروم ہوگئے۔
کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھارتی حکومت نے مظاہروں کے پیش نظر تین ماہ سے زائد عرصے تک کرفیو نافذ کیا، جس وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا رہا۔
اس دوران اسکولز، دکانیں، دفاتر اور پٹرول پمپس وغیرہ بند رہے، جبکہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہونے کی اطلاعات تھیں،ساتھ ہی کئی اخبارات پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔

ڈان نیوز