Protesters run from tear gas fired by security forces after supporters of Iraqi Shi'ite cleric Moqtada al-Sadr tried to approach the heavily fortified Green Zone during a protest at Tahrir Square in Baghdad, Iraq February 11, 2017. REUTERS /Mahmoud Raouf Mahmoud
عراق کے دارالحکومت بغداد میں شعلہ بیان شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں ایک سکیورٹی افسر سمیت چھے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
بغداد شہر کے میئر کا کہنا ہے کہ پُرتشدد مظاہرے کے دوران جھڑپوں پانچ افراد ہلاک اور 320 زخمی ہوگئے ہیں۔زخمیوں میں متعدد سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔پولیس نے صدری تحریک کے مظاہرے میں شریک افراد کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں اور مظاہرین نے جواب میں پتھراؤ کیا ہے۔
العربیہ نیوز چینل کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق صدری تحریک کے ہزاروں کارکنان اور حامیوں نے ہفتے کے روز دارالحکومت بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون کی جانب مارچ کیا اور اس کے گھیراؤ کی کوشش کی ہے۔
مظاہرین حکومت سے آیندہ ستمبر میں ہونے والے صوبائی انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کررہے تھے۔ واضح رہے کہ مقتدیٰ الصدر کے حامی گذشتہ سال بھی قلعہ نما گرین زون کی جانب اپنے مطالبات منوانے کے لیے دو مرتبہ دھاوا بول چکے ہیں اور انھوں نے پارلیمان کا بھی گھیراؤ کیا تھا لیکن وزیراعظم حیدر العبادی ان کے تمام مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید