مراکش کی مقامی میڈیا کے مطابق حکومت نے برقع کی فروخت، پیداوار اور درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے حکومت نے خطوط پیر کے روز ارسال کیے جس میں دکانوں سے کہا گیا ہے کہ ان کے پاس سٹاک ختم کرنے کے لیے 48 گھنٹے ہیں۔
اگرچہ اس حوالے سے سرکاری اعلان نہیں ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سکیورٹی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کیا مراکش کی حکومت برقعے پر مکمل طور پر پابندی عائد کرنے لگا ہے یا نہیں۔
مراکش کی وزارت داخلہ کے اعلیٰ عہدیدار نے مقامی نیوز سائٹ سے بات کرتے ہوئے پابندی کی تصدیق کی۔ انھوں نے کہا کہ لٹیروں نے کئی بار برقعے پہن کر کارروائیاں کی ہیں۔
مراکش میں برقع اتنا عام نہیں ہے کیونکہ عورتیں حجاب کو ترجیح دیتی ہیں۔
حکومت کے اس اقدام سے متعلق ملک میں رائے بٹ گئی ہے۔ مراکش کے شاہ عبداللہ اعتدال پسند اسلام کے حامی ہیں۔
مبلغ حماد قباج جن کو شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات کی بنا پر اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میںپابندی لگا دی گئی تھی نے حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے مراکش کہا کہ مراکش کی آزادی اور انسانی حقوق کے مطابق مغربی سوئمنگ سوٹ پہننے کا حق ہے۔
دوسری جانب شمالی مراکش نیشنل آبزرویٹری فار ہیومن ڈیویلپمنٹ کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ خواتین کی آزادی اظہار کی خلاف ورزی ہے۔
تاہم سابق وزیر برائے فیملی اینڈ سوشل ڈیویلپمنٹ نزھۃ صقلي نے برقعے پر پابندی کو شدت پسندی کے خلاف جنگ میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…