عراق میں شامی سرحد کے نزدیک واقع علاقے القائم پر فضائی حملہ کرنے والوں کی شناخت کی تصدیق نہیں ہوسکی اور اس سلسلے میں متضاد خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ ایک جانب عراقی فوجی پر الزام عائد کیا جا رہا ہے جب کہ دوسری جانب بین الاقوامی اتحاد کو اس حملے کا ذمے دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ حملے میں درجنوں شہری جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے میں ایک بازار کو ہجوم کے اوقات میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بعض پورے خاندان موت کی نیند سو گئے جب کہ بعض لوگ اپنی تنخواہوں کی وصولی کے واسطے لائنوں میں کھڑے تھے۔
داعش کے خلاف برسرپیکار اتحادی افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اتحادی طیاروں نے اس وقت مذکورہ علاقے کو حملے کا نشانہ نہیں بنایا۔
داعش تنظیم کے خلاف معرکوں کی نگرانی کرنے والی مشترکہ عراقی آپریشنز کی کمان نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
دوسری جانب موصل آپریشن میں عراقی افواج کی پیش قدمی جاری ہے۔ عراقی افواج نے آپریشن کو دشوار اور پیچیدہ قرار دیا ہے اس لیے کہ داعش تنظیم موصل میں دو برس سے اپنی فورس کو مضبوط کر رہی ہے.. ایسی صورت میں عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی جانب سے رواں برس کے اختتام تک داعش تنظیم کے مکمل خاتمے کی ہدایت عملی طور پر ممکن نہیں نظر آتی۔
العربیہ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…