زرنج (سنی آن لائن) افغانستان کے جنوب مغربی صوبہ نیمروز سے تعلق رکھنے والے معروف عالم دین مولانا صلاح الدین موحد بلوچ کو منگل پندرہ نومبر میں ان کے گھر کے سامنے شہید کردیا گیا۔
’سنی آن لائن‘ کے ذرائع کے مطابق، موصوف اس وقت شہادت سے ہمکنار ہوئے جب ایک مدرسے میں پڑھانے کے بعد دوپہر کو گھر واپس آئے تھے۔ نامعلوم قاتل نے مہمان کے روپ میں ان کے گھر میں داخل ہوکر پستول سے انہیں شہید کردیا۔
مولانا موحد نے زیادہ تر تعلیم دارالعلوم زاہدان (ایران) میں حاصل کی اور دورہ حدیث (آخری سال) کے لیے دارالعلوم کراچی گئے جہاں آپ فارغ التحصیل ہوئے۔
بلوچ عالم دین مولانا صلاح الدین کا شمار صوبہ زرنج کے مایہ ناز علمائے کرام اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے رہ نماوں میں ہوتا تھا۔ آپ جامع مسجد مدنی کے خطیب، خواتین کے دینی مدرسہ ’فاطمہ الزہرا‘ کے مہتمم اور جامعہ احیا العلوم سیاہ چم کے استاذ حدیث تھے۔
افغان طالبان نے امارت اسلامیہ افغانستان کی جانب سے بیان جاری کرتے ہوئے اس واقعے کی پرزور مذمت کی ہے۔
دریں اثنا افغانستان کی وزارت حج و اوقاف اور زاہدان ایران کے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے جاری بیانات میں مولانا صلاح الدین کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔
مولانا موحد کی نماز جنازہ آج صوبہ نیمروز کے صدرمقام زرنج میں ہزاروں افراد کی آہوں اور سسکیوں میں ادا کی گئی۔ اس موقع پر افغانستان کے متعدد علمائے کرام نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے مرحوم کی خدمات کو سراہا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…