پس منظر
’’برطانیہ نے بیسویں صدی کے شروع میں خلافتِ عثمانیہ ترکی کو کمزور اور پھر ختم کرنے کی خوفناک سازشیں شروع کردی تھیں، جب اس کے آثارِ بدظاہر ہونا شروع ہوئے تو متحدہ ہندوستان میں خلافت کی حمایت میں تحریکِ خلافت اور اس کو مؤثر بنانے کے لیے انگریزوں کے خلاف تحریکِ ترکِ موالات شروع ہوئی۔ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ جون ۱۹۲۰ء میں جب مالٹا کی اسارت سے رہا ہوکر ہندوستان پہنچے تو آپ نے اس تحریک کی حمایت میں فتویٰ دیا، فتویٰ نقشِ حیات جلد دوم صفحہ نمبر: ۶۷۴ پر ہے، انہی ایام میں حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمہ اللہ کی تحریک پر خلافت کمیٹی نے آپ کو ’’شیخ الہند‘‘ کا خطاب دیا، ماشاء اللہ! اس کے بعد تو یہ مبارک لقب آپ کی پہچان ہی بن گیا۔
سر سید مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اُس وقت انگریزوں کی مکمل حمایت میں تھی، مگر اسی یونیورسٹی میں مولانا محمدعلی جوہر رحمہ اللہ اور ان کے ہمنواؤں کی قیادت میں ایک طبقہ انگریز کی غلامی سے بیزار تھا، اس نے تحریک خلافت میں بھرپور حصہ لیا اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی اعلی قیادت سے حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے فتوے کی بنیاد پر تحریک ترک موالات کی حمایت کا مطالبہ کیا، مگر فرنگی کی پروردہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اس سے انکار کردیا، یہ اختلاف یہاں تک بڑھا کہ مولانا جوہر رحمہ اللہ کی قیادت میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے اس انگریز دشمن طبقہ نے انگریز کے اثرات سے پاک متوازی طور پر ’’مسلم نیشنل یونیورسٹی علی گڑھ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا اور اس کے تاسیسی اجلاس کے صدارت کے لیے حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کو دعوت دی۔ آپ رحمہ اللہ نے باوجود علالت و نقاہت کے یہ کہہ کر دعوت قبول فرمائی کہ ’’اگر میری صدارت سے انگریز کو تکلیف ہوگی تو میں اس جلسے میں ضرور شریک ہوں گا‘‘ چنانچہ آپ علی گڑھ تشریف لے گئے اور صدارت فرمائی۔ خطبۂ صدارت آپ کی طرف سے حضرت مولانا شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ نے پڑھا۔ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ اس کے بعد علی گڑھ سے دہلی تشریف لے گئے اور ایک ماہ بعد دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ واضح ہو کہ اس نئی مسلم نیشنل یونیورسٹی کے چانسلر حکیم محمد اجمل خاں رحمہ اللہ اور وائس چانسلر مولانا محمدعلی جوہر رحمہ اللہ بنائے گئے، بعد میں مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ نے اس کا نام ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘‘ تجویز کیا اور پھر یہ اسی نام ہی سے معروف و مشہور ہوئی۔ اسی مناسبت سے بہت سے مقامات پر حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے ذیل کے خطبۂ صدارت کی نسبت ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘‘ کی تاسیس کی طرف کردی گئی ہے۔ ۱۹۲۵ء میں یہ نئی یونیورسٹی‘ علی گڑھ سے دہلی منتقل ہوگئی۔
یہ تفصیل ہم نے اس لیے ذکر کی کہ علی گڑھ یونیورسٹی کا نام آتے ہی ذہن فوراً سرسید کی قائم کردہ یونیورسٹی کی جانب جاتا ہے اور ساتھ ہی یہ کہ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کی میزبان یہی سرسید مسلم یونیورسٹی علی گڑھ تھی، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں، بلکہ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ تو سرسید یونیورسٹی کے باغیوں کی سرپرستی اور ان کی نئی یونیورسٹی کی تاسیس کے لیے گئے تھے اور یہی لوگ حضرت رحمہ اللہ کے میزبان تھے۔ لیکن بہر حال یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس نئی مسلم نیشنل یونیورسٹی میں مولانا محمدعلی جوہر رحمہ اللہ کے ساتھ جو طبقہ تھا وہ بھی اصلاً سرسید یونیورسٹی علی گڑھ ہی سے تھا، اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ نے جذبۂ حریت و سیاست شرعیہ کے اعتبار سے دیوبند اور علی گڑھ میں سیاسی قبلہ کی وحدت پیدا کردی تھی، جس کے نتیجہ میں جدید طبقہ کی ایک تعداد نے تحریک آزادی میں بھرپور حصہ لیا اور علماء کے قرب کی وجہ سے بہت سے ’’مسٹر‘‘ ’’مولانا‘‘ بن گئے۔ تفصیل ’’علمائے حق‘‘ جلد اول اور ’’نقشِ حیات‘‘ جلد دوم کے آخر میں ملاحظہ کریں۔ یہ خطبۂ صدارت ’’علمائے حق‘‘ جلد اول، صفحہ نمبر : ۳۷۱ میں ہے۔ واضح رہے کہ کتاب ’’علمائے ہند کا شاندار ماضی‘‘ کی پانچویں و چھٹی جلد ہی ’’علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے حصہ اول و دوم‘‘ سے معروف ہے۔ قارئین محسوس کریں گے کہ آج تقریباً صدی بعد بھی حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے ارشادات مخلصین کے لیے رہبر و راہنما ہیں کہ باطل کی سرکوبی اور حق کی سربلندی کے لیے اخلاص و تقویٰ کے ساتھ اجتماعیت، شجاعت و حکمت کا ہونا بھی ضروری ہے، محمدعابد عفی عنہ۔
خطبہ صدارت
’’حامدا و مصلیاً: اما بعد! جلسوں کی عام روش کا اقتضا یہ ہے کہ میں سب سے پہلے اس عزتِ صدارت پر، جو ایک نہایت ہی سرفروشانہ ایثار و شجاعانہ جد و جہد کرنے والی جماعت کی طرف سے مجھ کو مرحمت ہوئی ہے، شکرگزاری اور منت پذیری کا اظہار کروں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ شکریہ چند وقیع اور شاندار الفاظ سے ادا نہیں ہوسکتا اور نہ مجھ کو محض رسمی اور مصنوعی ممنوعیت کی نمائش اس بھاری ذمہ داری کے بوجھ سے سبکدوش کرسکتی ہے جو فی الحقیقت آپ نے اس عزت افزائی کے ضمن میں مجھ پر عائد کی ہے، دو چار پھڑکتے ہوئے جملے بلاشبہ عارضی طور پر مجلس کو محفوظ کرسکتے ہیں، مگر میں خیال کرتا ہوں کہ میری قوم اس وقت فصاحت و بلاغت کی بھوکی نہیں ہے اور نہ اس قسم کی عارضی مسرتوں سے اس کے درد کا اصلی درمان ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے ضرورت ہے ایک قائم و دائم جوش کی، نہایت صابرانہ ثبات قدم کی، دلیرانہ مگر عاقلانہ طریق عمل کی اور اپنے نفس پر پورا قابو پانے کی۔ غرض ایک پختہ کار بلند خیال اور ذی ہوش محمدی بننے کی۔
میں ہرگز آپ کے لیکچراروں اور فصیح اللسان تقریر کرنے والوں کی تحقیر نہیں کرتا ہوں، کیونکہ میں خوب جانتا ہوں کہ جو چیز سوئے ہوئے دلوں کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے اور زمانہ کی ’’ہوا‘‘ میں اول تموّج پیدا کرتی ہے وہ یہی دعوتِ حق کا غلغلہ ڈالنے والی زبان ہے، ہاں! اس قدر گزارش کرتا ہوں کہ تا وقتیکہ متکلم اور مخاطب کے دل میں سعی جمیلہ کا سچا جذبہ، اس کے اخلاق میں شجاعانہ استقامت و ایثار، اس کے جوارح میں قوت عمل، اس کے ارادوں میں پختگی اور چستی نہ ہو، محض گر مجوش تقریریں کسی ایسے کٹھن اور بلند پایہ مقصد میں آپ کو کامیاب نہیں کرسکتیں:
و کیف الوصول الی سعاد و دونھا
قلل الجبال و دونھن حتوف
اے حضرات! آپ خوب جانتے ہیں کہ جس وادیِ پُرخار کو آپ برہنہ پا ہوکر قطع کرنا چاہتے ہیں وہ مشکلات اور تکالیف کا جنگل ہے، قدم قدم پر وہاں صعوبتوں کا سامنا ہے، طرح طرح کی بدنی، مالی اور جاہی مکروہات آپ کے دامنِ استقلال کو الجھانا چاہتے ہیں، لیکن ’حُفَّتِ الجَنَّۃُ بِالمَکارِہِ‘ کے قائل کو اگر آپ خدا کا سچا رسول مانتے ہیں (اور ضرور مانتے ہیں) تو یقین رکھیے! کہ جس صحرائے پُر خار میں آپ گامزن ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کے راستہ پر جنت کا دروازہ بہت ہی نزدیک ہے۔
کامیابی کا آفتاب ہمیشہ مصائب و آلام کی گھٹاؤں کو پھاڑ کرنکلا ہے اور اعلیٰ تمناؤں کا چہرہ سخت سے سخت صعوبتوں کے جھرمٹ میں سے دکھائی دیا ہے:
«أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ» (سورۃ البقرہ: ۲۱۴)
’’کیا تم کو خیال ہے کہ تم جنت میں جاگھسوگے اور تمہیں اس طرح کے حالات پیش نہ آئیں گے جو کہ تم سے پہلے لوگوں کو پیش آئے؟ ان کو سختیاں اور اذیتیں پہنچیں اور وہ اس قدر جھڑ جھڑائے گئے کہ پیغمبر اور اس کے ساتھ مومنین بول اُٹھے کہ خدا کی مدد کہاں ہے؟ یاد رکھو کہ خدا کی مدد نزدیک ہے۔‘‘
دوسری جگہ ارشاد ہے:
«أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ» (سورۃ آل عمران: ۱۴۲)
’’کیا تم نے یہ خیال کیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤگے بدون (بغیر) اس کے کہ اللہ جانچ کرے تو میں سے مجاہدین اور صابرین کی؟۔‘‘
ایک اور مقام پر ارشاد ہوا ہے:
«الم* أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ* وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ» (سورۃ العنکبوت: ۱۔۳)
’’کیا لوگ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ محض ’’أمنّا‘‘ کہنے پر وہ چھوڑدیے جائیں گے؟ حالانکہ ہم نے ان سے پہلے لوگوں کی آزمائش کی ہے، تو ضرور ہے کہ اللہ پرکھے گا سچے اور جھوٹے لوگوں کو۔‘‘
یہ حق تعالی جل شانہ کی سنت مستمرہ ہے جس میں کسی قسم کی تبدیلی و تغیر گوراہ نہیں، کوئی قوم اللہ جل شانہ کی محبت اور اس کے راستے پر چلنے کی مدعی نہیں ہوئی جس کو امتحان و آزمائش کی کسوٹی پر نہ کسا گیا ہو، خدا کے برگزیدہ اور اولوالعزم پیغمبر جن سے زیادہ خدا کا پیار کسی پر نہیں ہوسکتا، وہ بھی مستثنی نہیں رہے، بیشک ان کو مظفر و منصور کیا گیا، مگر کب؟! سخت ابتلاء اور زلزالِ شدید کے بعد، وہ خود فرماتے ہیں:
«حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّيَ مَنْ نَشَاءُ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ» (یوسف: ۱۱۰)
پس اے فرزندانِ توحید! میں چاہتا ہوں کہ آپ انبیاء و مرسلین اور ان کے وارثوں کے راستہ پر چلیں اور جو لڑائی اس وقت شیطان کی ذریت اور خدائے قدوس کے لشکروں میں ہو رہی ہے اس میں ہمت نہ ہاریں اور یاد رکھیں کہ شیطان کے مضبوط سے مضبوط آہنی قلعے خداوند قدیر کی امداد کے سامنے تارِ عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہیں۔
«الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا» (النساء: ۷۶)
’’ایماندار تو خدا کے راستے میں لڑتے ہیں اور کافر شیطان کے راستہ میں، پس تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو، بلاشبہ شیطان کی فریب کاری محض لچر پوچ ہے۔‘‘
میں نے اس پیرانہ سالی اور علالت و نقاہت کی حالت میں (جس کو آپ خود مشاہدہ فرمارہے ہیں) آپ کی دعوت پر اس لیے لبیک کہا کہ میں اپنی ایک گم شدہ متاع (۱) کو یہاں پانے کا امیدوار ہوں۔
بہت سے نیک بندے ہیں جن کو چہروں پر نماز کا نور اور ذکر اللہ کی روشنی جھلک رہی ہے، لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدارا! اُٹھو اور اس امتِ مرحومہ کو کفار کے نرغے سے بچاؤ، ان کے دلوں پر خوف و ہراس مسلط ہو جاتا ہے، خدا کا نہیں، بلکہ چند ناپاک ہستیوں کا اور ان کے سامانِ حرب و ضرب کا، حالانکہ ان کو تو سب سے زیادہ جاننا چاہیے تھا کہ خوف کھانے کے قابل اگر کوئی چیز ہے تو خدا کا غضب اور اس کا قاہرانہ انتقام ہے اور دنیا کی متاع قلیل خدا رحمتوں اور اس کے انعامات کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی، چنانچہ اس قسم کے مضمون کی طرف حق تعالی جل شانہ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا ہے:
«أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا» (النساء: ۷۷)
’’کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نظر نہیں کی جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوۃ دیتے رہو، پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو یکا یک ان میں ایک فریق ڈرنے لگا آدمیوں سے، خدا کے برابر یا اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگا: اے ہمارے پرورگار! آپ نے ہم پر جہاد کیوں فرض کیا؟ اور کیوں تھوڑی مدت ہم کو اور مہلت نہ دی؟ کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ تھوڑا ہے اور آخرت اس شخص کے لیے بہتر ہے، جس نے تقویٰ اختیار کیا اور تم پر ایک تاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا، جہاں کہیں بھی ہو موت تم کو آدبائے گی، اگر چہ تم نہایت مستحکم قلعوں میں ہو۔‘‘
اے نونہالانِ وطن! جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غمخوار (جس سے میری ہڈیاں پگھلی جارہی ہیں) مدرسوں، خانقاہوں میں کم اور اسکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں (۲) تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا اور اسی طرح ہم نے ہندوستان کے دو تاریخی مقاموں (دیوبند اور علی گڑھ) کا رشتہ جوڑا، کچھ بعید نہیں کہ بہت سے نیک نیت بزرگ میرے اس سفر پر نکتہ چینی کریں اور مجھ کو اپنے مرحوم بزرگوں کے مسلک سے منحرف بتائیں، لیکن اہل نظر سمجھتے ہیں کہ جس قدر میں بظاہر علی گڑھ کی طرف آیا ہوں اس سے کہیں زیادہ علی گڑھ (۳) میری طرف آیا ہے۔
دوش دیدم کہ ملائک در مے خانہ زدند
گلِ آدم بسرشتند و بہ پیمانہ زدند
ساکنانِ حرم سرّ عفاف ملکوت
بہ امن راہ نشیں بادۂ مستانہ زدند
شکر ایزد کہ میان من و او صلح فتاد
حوریاں رقص کناں ساغر شکرانہ زدند
جنگ ہفتاد و دو ملت ہمہ را عذر بنہ
چوں نہ دیدند حقیقت رہِ افسانہ زدند
آپ میں سے جو حضرات محقق اور باخبر ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ میرے اکابر سلف نے کسی وقت بھی کسی اجنبی زبان سے سیکھنے یا دوسری قوموں کے علم و فنون حاصل کرنے پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا، ہاں! یہ بے شک کہا گیا کہ اگر انگریزی تعلیم کا آخری اثر یہی ہے جو عموماً دیکھا گیا ہے کہ لوگ نصرانیت کے رنگ میں رنگے جائیں یا ملحدانہ گستاخیوں سے اپنے مذہب اور مذہب والوں کا مذاق اُڑائیں یا ’’حکومت وقتیہ‘‘ کی پرستش کرنے لگیں تو ایسی تعلیم پانے سے ایک مسلمان کے لیے جاہل رہنا ہی اچھا ہے، اب از راہِ نوازش آپ ہی انصاف کیجیے کہ یہ تعلیم سے روکنا تھا یا اس کے اثر بد سے اور کیا یہ وہی بات نہیں جس کو آج مسٹر گاندھی اس طرح ادا کررہے ہیں کہ: ’’ان کالجوں کی اعلیٰ تعلیم بہت اچھی، صاف اور شفاف دودھ کی طرح ہے جس میں تھوڑا سا زہر ملادیا گیا ہو۔‘‘
باری تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے میری قوم کے نوجوانوں کو توفیق دی ہے کہ وہ اپنے نفع و ضرر کا موازنہ کریں اور دودھ میں جو زہر ملا ہوا ہے اس کو کسی ’’بھپکے‘‘ کے ذریعہ سے علیحدہ کرلیں، آج ہم وہی بھپکا نصب کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں اور آپ نے مجھ سے پہلے سمجھ لیا ہوگا کہ وہ ’’بھپکا‘‘ مسلم نیشنل یونیورسٹی ہے۔
مطلق تعلیم کے فضائل بیان کرنے کی ضرورت اب میری قوم کو نہ رہی، کیونکہ زمانے نے خوب بتلادیا ہے کہ تعلیم سے ہی بلند خیالی اور تدبر اور ہوش مندی کے پودے نشو و نما پاتے ہیں اور اس کی روشنی میں آدمی نجاح و فلاح کے راستے پر چل سکتا ہے، ہاں! ضرورت اس کی ہے کہ وہ تعلیم مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہو اور اغیار کے اثر سے بالکل آزاد ہو۔۔۔۔۔۔ کیا باعتبارِ عقائد و خیالات کے اور کیا باعتبارِ اخلاق و اعمال کے اور کیا باعتبارِ اوضاع و اطوار کے (ان سب میں) ہم غیروں کے اثرات سے پاک ہوں۔
ہماری عظیم الشان قومیت کا اب یہ فیصلہ نہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے کالجوں سے بہت سستے داموں پر غلام پیدا کرتے رہیں، بلکہ ہمارے کالج نمونہ ہونے چاہئیں بغداد اور قرطبہ کی یونیورسٹیوں اور ان عظیم الشان مدارس کے جنہوں نے یورپ کو اپنا شاگرد بنایا، اس سے بیشتر کہ ہم اس کو اپنا استاد بناتے۔
آپ نے سنا ہوگا کہ بغداد میں جب مدرسۂ نظامیہ کی بنیاد ایک اسلامی حکومت کے ہاتھوں رکھی گئی ہے تو اس دن علماء نے جمع ہوکر علم کا ماتم کیا تھا کہ افسوس آج سے علم حکومت کے عہدے اور منصب حاصل کرنے کے لیے پڑھا جائے گا۔۔۔۔۔۔ تو کیا آپ ایک ایسی یونیورسٹی (۴) سے فلاحِ قومی کی امید رکھ سکتے ہیں جس کی امداد اور نظام میں بڑا زبردست ہاتھ ایک غیراسلامیہ کی ایک بڑی اہم ضرورت کا احساس کیا ہے۔۔۔۔۔۔ بلاشبہ مسلمانوں کی درسگاہوں میں جہاں علوم عصریہ کی اعلی تعلیم دی جاتی ہو، اگر طلبہ اپنے اصول و فروع سے بے خبر ہوں اور اپنے قومی محسوسات اور اسلامی فرائض فرامش کردیں اور ان میں اپنی ملت اور اپنے ہم قوموں کی حمیت نہایت ادنیٰ درجہ پر رہ جائے تو یوں سمجھو کہ وہ درسگاہ مسلمانوں کی قوت کو ضعیف بنانے کا ایک آلہ ہے، اس لیے اعلان کیا گیا ہے کہ ایک آزاد یونیورسٹی (۵) کا افتتاح کیا جائے گا جو گورنمنٹ کی اعانت اور اس کے اثر سے بالکل علیحدہ اور جس کا تمام تر نظامِ عمل اسلامی اور قومی محسوسات پر مبنی ہو۔
مجھے ان لیڈروں سے زیادہ ان نونہالانِ وطن کی ہمت بلند پر آفرین اور شاباش کہنا چاہیے، جنہوں نے اس مقصد کی انجام دہی کے لیے اپنی ہزاروں امیدوں پر پانی پھیردیا اور باوجود ہر قسم کے طمع اور خوف کے وہ ’’موالاتِ نصاریٰ کے ترک‘‘ پر مضبوطی اور استقلال کے ساتھ قائم رہے اور اپنی عزیز زندگیوں کو ملت اور قوم کے نام پر وقف کردیا۔
شاید ترکِ موالات کے ذکر پر آپ اس مسئلہ کی تحقیق کی طرف متوجہ ہوجائیں اور ان عامۃ الورود سوالات اور شبہات کے دلدل میں پھنسنے لگیں جو اس بہت ہی اہم و اعظم مسئلے کے متعلق آج کل عموماً زبان زد ہیں، اس لیے میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں کہ آپ تھوڑا سا وقت مجھ کو اس تحریر کے سنانے کے لیے عنایت فرمائیں جو میں نے بعض مسائل دریافت کیے جانے پر دیوبند سے تیار کرکے بھیجی تھی۔ (۶)
اب میری یہ التجا ہے کہ آپ سب حضرات بارگاہِ رب العزت میں نہایت صدقِ دل سے دعا کریں کہ وہ ہماری قوم کو رسوا نہ کرے اور ہم کو کافروں کا تختہ مشق نہ بنائے اور ہمارے اچھے کاموں میں ہماری مدد فرمائیں۔
و آخر دعوانا أن الحمدللہ رب العالمین و صلی اللہ علیہ خیر خلقہ محمد و آلہ و أصحابہ أجمعین
آپ کا خیراندیش
محمود عفی عنہ
۱۶/صفر ۱۳۳۹ھ مطابق ۲۹/اکتوبر ۱۹۲۰ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی
۱۔ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کی ’’گم شدہ متاع‘‘ سے مراد شجاعت و جذبۂ حریت اور سیاسی شعور کی بیداری تھی، دراصل آپ رحمہ اللہ مسلمانوں میں خصوصاً صلحاء و علماء میں اعمال صالحہ کے ساتھ جذبۂ حریت کی سرشاری بھی دیکھنا چاہتے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب (م،ع)
۲۔ اس لیے کہ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ نے ان لوگوں کی ’’علی برادران‘‘ کی قیادت میں تحریک خلافت میں جانثاری ملاحظہ فرمائی تھی۔
۳۔ اس لیے کہ علی گڑھ کے ان لوگوں نے انگریز کے تسلط سے آزاد یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور تحریک ترکِ موالات میں حصہ لیا۔
۴۔ یہ اشارہ ہے سرسید یونیورسٹی علی گڑھ کی طرف۔
۵۔ مراد مسلم نیشنل یونیورسٹی علی گڑھ ہے، جو بعد میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تبدیل ہوگئی۔
۶۔ تحریک ترکِ موالات کے متعلق حضرت اقدس شیخ الہند رحمہ اللہ کا فتویٰ نقشِ حیات صفحہ: ۶۷۴ جلد دوم میں ملاحظہ فرمائیں، جس کی تائید بعد میں پانچ سو علماء نے فرمائی تھی۔
مرسلہٗ: مولانا محمد عابد
اشاعت: ماہنامہ بینات۔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن ۔ کراچی
ذوالحجۃ ۱۴۳۷ھ