سعودی عرب میں نابینا افراد کے قرآن پاک کے درس وتدریس میں سرگرم ایک تنظیم نے معذور شہریوں کے لیے حفظ قرآن کریم کی ایک نئی سہولت متعارف کرائی ہے جس کی مدد سے نابینا افراد زیادہ آسانی اور سہولت کے ساتھ قرآن مجید حفظ کرسکیں گے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جدہ میں قائم ’خیرکم‘ نامی ادارے کی طرف سے نابینا شہریوں کے حفظ قرآن کریم کے لیے اسمارٹ ایپلیکیشن تیارکی ہے۔ اسمارٹ ایپلیکیشن کی سہولت کے بعد نابینا شہریوں کو گھروں سے دور کسی مدرسے یا حفظ قرآن کے مرکز میں جانے اور فیسیں ادا کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
’خیرکم‘ نے نابینا افراد کے لیے اس نئے اسمارٹ پروگرام کو ’القرآن نورنی‘ کا نام دیا ہے۔ نابینا شہریوں کے لیے اسمارٹ ایپلیکیشن کی تیاری میں سالم بن احمد فاؤنڈیشن اور ایک مخیر خاندان نے معاونت کی ہے۔ تحفیظ القرآن کی یہ پوری دنیا کی منفرد سہولت ہے۔ اس اسمارٹ سروس سے نہ صرف نابینا افراد بھرپور استفادہ کرسکیں گے بلکہ گونگے اور بہرے بھی قرآن پاک سمجھ سکیں گے۔ اپیلیکیشن عربی اور انگریزی زبان میں تیار کی گئی ہے جو صوتی آہنگ کے ساتھ نابینا افراد کو آیات قرآنی یاد کرانے میں مددگار ہوگی۔
تنظیم کے چیئرمین انجینیر عبدالعزیز حنفی نے ایک بیان میں بتایا کہ ’القرآن نورنی‘ پروگرام کا مقصد نابینا، گونگے اور بہرے افراد کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مستفید ہونے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے گونگے، بہرے اور بینائی سے محروم شہری بھی قرآن پاک حفظ کرکے معاشرے کے کار آمد شہری بن سکیں گے۔
خیال رہے کہ پوری دنیا میں نابینا افراد کی تعداد کل آبادی کا 12 فی صد ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پوری دنیا میں ایک کروڑ افراد گونگے، بہرے یا نابینا ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید