Syrian rescuers hand the body of a girl down to civilians on the ground after she was pulled from rubble of a budling following government forces air strikes in the rebel held neighbourhood of Al-Shaar in Aleppo on September 27, 2016. Syria's army took control of a rebel-held district in central Aleppo, after days of heavy air strikes that have killed dozens and sparked allegations of war crimes. / AFP PHOTO / KARAM AL-MASRI
شام کے سب سے بڑے شہر حلب میں بدھ کو علی الصباح انقلابیوں کے زیر قبضہ حصے میں دو بڑے اسپتالوں پر فضائی حملے کیے گئے ہیں جس کے بعد ان دونوں اسپتالوں میں طبی خدمات کی فراہمی عارضی طور پر بند کردی گئی ہے۔
یہ دونوں اسپتال شامی امریکی میڈیکل سوسائٹی کے زیر انتظام چل رہے ہیں۔ اس تنظیم کے ایک عہدے دار اعظم سلہول نے بتایا ہے کہ ”فضائی حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے کیا گیا تھا اور ایک طیارے نے دونوں جگہوں پر براہ راست بمباری کی تھی”۔
انھوں نے بتایا ہے کہ اس وقت مشرقی حلب میں چھے اسپتال کام کررہے ہیں اور ایم 2 اور ایم 10 عارضی طور پر زخمیوں اور مریضوں کو خدمات مہیا کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔
شامی اور روسی طیاروں نے گذشتہ چھے روز سے انقلابیوں کے زیر قبضے علاقوں پر بلا تعطل بمباری جاری رکھی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں مہلوکین اور زخمیوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے اور اسپتال زخمیوں سے بھر گئے ہیں جبکہ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں ادویہ اور دوسرا سامان کم پڑتا جارہا ہے۔
ایک اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں کام کرنے والے ایک رکن عارف العارف نے منگل کے روز بتایا تھا کہ ”شہر کے اسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں اور اب معاملات ہاتھ سے نکلنا شروع ہوگئے ہیں۔ ہم اسپتالوں میں کسی بھی چیز کو لانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ حتیٰ کہ آلات اور طبی عملہ بھی نہیں آسکتا۔ باہر کے علاقوں سے تعلق رکھنے والا طبی عملہ محاصرے کی وجہ سے شہر میں داخل نہیں ہوسکتا ہے”۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید