- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

نماز سے روکنا مذہبی گستاخی اور قانون کی خلاف ورزی ہے

زاہدان (سنی آن لائن) شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایرانی مرشداعلی کے ایک بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے نماز پر پابندی عائد کرنے کو کسی بھی مسلک کے لیے ’توہین‘ و ’گستاخی‘ اور آئین کی خلاف ورزی قرار دی ہے۔
’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے جنوب مشرقی شہر زاہدان کے خطیب نے تئیس ستمبر دوہزار سولہ کے خطبہ جمعہ میں ایران کے رہبر انقلاب کے بیان کو اہل سنت کی مقدس شخصیات کے حوالے سے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا: مرشد اعلی نے اپنے تازہ ترین بیان میں اہل سنت کے بزرگوں اور شخصیات کی شان میں گستاخی کو ائمہ کی سیرت کے خلاف اور ’انگریز شیعوں‘ کا کام یاد کیاہے۔ ہم بھی کہتے ہیں جو اہل تشیع سمیت تمام فرقوں کے بزرگوں کی شان میں گستاخی کرے، وہ در اصل انگریز کا کارندہ ہے۔ مقدسات کی گستاخی برطانیا و امریکا جیسی سامراجی طاقتوں کی پالیسیوں کے عین مطابق ہے جو مسلمانوں میں تنازعات پیدا کرنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: جس طرح مرشد اعلی نے زور دیا ہے کہ اہل سنت و الجماعت کے جذبات کو مشتعل نہیں کرنا چاہیے، ہمارا خیال بھی یہی ہے کہ کسی بھی مسلک کے پیروکاروں کے جذبات کو مجروح نہیں کرنا چاہیے۔ رہبر انقلاب نے اس سے پہلے بھی کھلا اعلان کیاہے کہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی شان میں گستاخی نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی ہے۔ ایسے بیانات کے مثبت آثار و نتائج عالم اسلام میں نکلیں گے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا: مقدس شخصیات کی شان میں گستاخی کے علاوہ گستاخی و توہین کی اور قسمیں بھی ہیں جن سے شیعہ و سنی دونوں کو گریز کرنا چاہیے؛ کسی بھی مسلک کے پیروکاروں کو نماز سے روکنا جس طرح ملک کے بعض علاقوں میں ہورہاہے یا ان کی نماز کا مذاق اڑانا اس مسلک کی توہین ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی سیرت میں کہیں بھی نہیں آیاہے کہ وہ نماز کے حوالے سے تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے تھے اور لوگوں کو نماز سے روکتے۔ نبی کریم ﷺ، ائمہ کرام اور دیگر بزرگوں کا شیوہ یہ نہیں تھا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں بھی مذہبی آزادی پر زور دیا گیاہے اور ہر کوئی اپنی فقہ کے مطابق نماز پڑھنے کے لیے آزاد ہے۔

نماز سے روکنا اتحاد امت کے لیے نقصان دہ ہے
خطیب اہل سنت زاہدان نے بات آگے بڑھاتے ہوئے گویا ہوئے: جو عناصر حکومت کے اندر ہوتے ہوئے اہل سنت کو نماز قائم کرنے سے روکتے ہیں، انہیں مخاطب کرتاہوں کہ اس حوالے سے رکاوٹیں کھڑی کرنا آئین کے ساتھ ساتھ دیانت اور ملک کے بزرگوں کی سوچ کے بھی خلاف ہے۔
انہوں نے کہا: یقینا ایسے افراد اتحاد امت کو کمزور کرتے ہیںاور انتہاپسند عناصر کے لیے بہانے تراشتے ہیں۔ نماز سے روک کر شدت پسندانہ سوچ رکھنے والوں کو مزید اشتعال نہیں دلانا چاہیے جس کا وہ غلط فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ ملک میں قائم بھائی چارہ اور امن کی فضا کو ایسے عامدانہ و جاہلانہ اقدامات سے مکدر نہیں کرنا چاہیے۔

نادانی سے مقابلہ سب سے بڑا جہاد ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے پہلے حصے میں صوبہ سیستان بلوچستان کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں آنے والے وفد کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے ایران میں سکولوں اور جامعات کے نئے تعلیمی سال کے آغاز کی مناسبت سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا: تعلیم دنیا میں کسی بھی قوم کے لیے اہم ہے۔ انسانی تاریخ میں دیکھا جائے، بشر کے پاس جو کچھ آیاہے سب تعلیم کی برکت سے آیاہے۔ تعلیم کے بغیر انسان اپنے جائز مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔
انہوں نے مزید کہا: قوموں کی عزت، ترقی اور خوشنامی علم اور تعلیم ہی میں ہے۔ لہذا سب کو اپنی اولاد کی تعلیم کے لیے مناسب منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ دنیا میں لوگ، مذہب اور سوچ سے قطع نظر، اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے محنت کرکے انہیں اچھی تعلیم دلواتے ہیں۔
صدر شورائے مدارس ہم آہنگی اہل سنت نے نادانی و جہل کے خلاف مقابلے کو ’سب سے بڑا جہاد‘ یاد کرتے ہوئے کہا: نادانی اور ناخواندگی انسانیت، خطے اور ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا سب سے بڑا جہاد ہے۔ ناخواندگی سے مقابلہ کرنا صرف وزارت تعلیم و تربیت اور حکومت کا کام نہیں ہے، یہ ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس سلسلے میں محنت کریں۔
انہوں نے مزید کہا: تعلیم ادھوری چھوڑنا خطرناک ہے۔ جو بچے اپنی تعلیم مکمل نہیں کرتے وہ مستقبل میں اپنے گھروالوں اور معاشرے کے لیے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ والدین اور خاندانوںکے سربراہ سکول اور اساتذہ سے رابطے میں رہیں اور اپنے بچوں کی تعلیمی صورتحال سے ہمیشہ آگاہ رہیں۔
مولانا عبدالحمید نے آخر میں یاددہانی کرتے ہوئے کہا: یہاں بہت سارے سکولز کی عمارتیں تیس چالیس سال پرانی ہیں جو تعمیرِ نو کے محتاج ہیں۔ اس حوالے سے بھی محکمہ تعلیم سے تعاون کرنا چاہیے؛ اگر کسی گاوں میں ضرورت پڑی اپنے گھر کا کوئی کمرہ خالی کرائیں یا حتی کہ مسجدوں میں بھی آداب کا خیال رکھتے ہوئے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔