ممتاز عالم دین نے ایران کے جنوب مشرقی شہر زاہدان میں سولہ ستمبر کو خطبہ جمعہ کے دوران تعلیم کی اہمیت واضح کرتے ہوئے بچوں کی تعلیم و اخلاق اور ادب پر توجہ دینے کو والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری قرار دی۔
’سنی آن لائن‘ نے مولانا عبدالحمید کی ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، خطیب اہل سنت زاہدان نے قرآنی آیت: “هل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون” کی تلاوت سے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا: ایک عرب شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ یتیم وہ نہیں جس کا باپ مرچکاہے، بلکہ حقیقی یتیم وہی ہے جو علم و ادب سے محروم ہے۔ جو بچہ تعلیم و اخلاق کے زیور سے محروم ہو، سچا یتیم وہی ہے۔
بچوں کے حوالے سے والدین کی ذمہ داریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا: والدین کی سب سے اہم ذمہ داری اولاد کی علمی و اخلاقی تربیت ہے۔ بچوں کو علم سیکھنا چاہیے؛ بچپن، نوجوانی اور جوانی سیکھنے کے بہترین اوقات ہیں۔ اس دورانیہ میں بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرانا چاہیے اور دینی مسائل و قرآن سیکھنے کے لیے انہیں مدارس و مکاتب میں داخل کرائیں۔ نیز عصری تعلیم کے لیے کالجوں اور جامعات میں انہیں داخلہ دلوانا چاہیے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: ماں باپ کو چاہیے بچوں کے دین و دنیا کے لیے منصوبہ بندی کریں۔ غیرمسلم والدین صرف اپنے بچوں کی دنیوی ترقی کے لیے کوشاں ہیں، انہیں آخرت کی ابدی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن مسلم والدین اپنی اولاد کے دین و دنیا کے لیے فکرمند رہتے ہیں؛ وہ چاہتے ہیں اس فانی دنیا میں ان کا مستقبل روشن ہو اور ایک پرسکون زندگی گزارکر اپنے معاشرے کی خدمت کریں۔ نیز وہ ان کی اخروی و ابدی زندگی سے غافل نہیں رہتے اور آخرت میں بھی انہیں سرخرو دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ یوم حساب میں رسوا ہوکر کہیں جہنم میں داخل نہ ہوجائیں۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالی نے قرآن پاک میں خاندانوں کے سربراہوں کو آگاہ فرمایاہے کہ اپنے بچوں اور گھروالوں کو اس آگ سے بچائیں جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ لہذا ان کی صحیح تربیت ہماری دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایک مثالی مسلم گھرانے کی بعض خصوصیات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا: دیندار خاندان اپنی اولاد کی آخرت کے ساتھ ساتھ ان کی دنیا کے لیے بھی محنت کرتے ہیں۔ آج کی دنیا مقابلے کی دنیا ہے؛ ہمیں دینداری و نیک اعمال کے علاوہ تعلیم کے میدان میں بھی دوسروں سے مقابلہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: بہت سارے والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلواتے ہیں اور ان کے تمام بچے جامعات میں مختلف علوم میں مہارت حاصل کرتے ہیں؛ یہ بہت ہی اچھا اقدام ہے۔ لیکن بعض لوگ اپنی اولاد کے دین و دنیا کے حوالے سے لاتعلقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کی تعلیم کے لیے منصوبہ بندی نہیں کرتے ہیں۔ بچوں کے دین و دنیا کے بارے میں بے توجہ ہوکر انہیں اپنے ہی حال پر چھوڑدیتے ہیں۔ ایسے بچے حقیقی معنوں میں یتیم ہیں اور ماںباپ کی شفقت سے محروم ہیں۔ بچوں کی تعلیمی و اخلاقی تربیت کا اہتمام والدین کی شفقت و خیرخواہی کا نشان ہے۔
ممتاز سنی عالم دین نے اولاد کی دینی و دنیاوی تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا: کوشش کرنی چاہیے کہ بچے معاشرے کے لیے مفید ہوں اور علم حاصل کرکے صحیح رستے پر چل پڑیں۔ اس لیے دینی مدارس و مکاتب اور سکولوں اور کالجوں میں بچوں کو داخل کرائیں۔