آر سی ایم پی کمشنر باب پالسن نے حال ہی میں ہدایات جاری کی ہیں کہ اگر کوئی مسلم خاتون آفیسر چاہے تو حجاب پہن سکتی ہے۔
پبلک سیفٹی کے وزیر رالف گوڈیل کے ترجمان سکاٹ بارڈسلے نے کہا ہے کہ رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس ایک ترقی پسند محکمہ ہے اور وہ ہر فرد کی شخصی ، ثقافتی اور مذہبی اقدار کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آر سی ایم پی کے سکھ ارکان کے لئے 1990 سے پگڑی کو یونیفارم کا حصہ قرار دے دیا گیا ہے۔
سکھوں کو یہ حق بلتیج سنگھ ڈھلوں کی کوششوں سے حاصل ہوا جو ایک باعمل سکھ تھے اور آر سی ایم پی میں بھرتی ہونا چاہتے تھے۔ بارڈسلے نے کہا کہ نئی پالیسی کینیڈا میں متنوع لسانی اور مذہبی گروہوں کی عکاسی اور زیادہ سے زیادہ مسلم خواتین کی آر سی ایم پی میں شمولیت کے لئے حوصلہ افزائی کی ایک کوشش ہے۔
آر سی ایم پی کی سٹاف سارجنٹ جولی گیگنان نے بتایا کہ ملازمین میں تنوع کی عکاسی کرنے کے لئے خواہش مند مسلم خواتین کے لئے ایک خصوصی حجاب ڈیزائن کیا گیا ہے جو ان کی کاکردگی میں حائل بھی نہ ہو اور ان کے تحفظ کے اعلیٰ ترین معیار کا حامل بھی ہو۔ بارڈسلے نے بتایا کہ ٹورانٹو پولیس فورس اور ایڈمانٹن پولیس فورس کے بعد آر سی ایم پی تیسری پولیس فورس ہے جس میں خواتین کو حجاب پہننے کی اجازت دی گئی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ برطانیہ ، سویڈن ، ناروے اور امریکہ کی بعض ریاستوں میں پہلے ہی اس پالیسی پر عمل ہو رہا ہے۔ نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمز نے اس پالیسی کا پر جوش خیر مقدم کیا ہے۔
اردو ٹائمز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…