- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

شام: بمباری جاری، بیسیوں افراد ہلاک

شام میں شدت پسند گروپ داعش کے خلاف لڑنے والے جنگجووئوں نے منبج شہر کے آدھے حصے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔
امریکہ کی زیر قیادت داعش مخالف اتحاد کے ترجمان کرنل کرس گارور نے بغداد سے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے بتایا کہ امریکی حمایت یافتہ سویئن عرب اتحاد کے جنگجو منبج کے مغربی حصے کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں اور شہر کے گرد اپنا گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق میں فلوجہ اوررمادی سے پسپائی کے برعکس داعش منبج میں پسپا تو ہو رہی ہے لیکن وہ نئی کمک بھی حاصل کر رہی ہے جس سے شہر کے وسط تک پہنچنا دشوا ہو رہا ہے۔
گارور نے کہا کہ ’’یہ ایسی لڑائی ہے اس سے پہلے ہم نے نہیں دیکھی تھی‘‘۔ منبج کے قریب 500 سے زائد فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ ادھر شام میں روسی فوجی ہاتھ میں پکڑے گئے دستی بم کے پھٹنے سے مارا گیا۔ شمالی شامی شہر حلب میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران 950 سے زائد عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ امریکہ کیلئے یہ واقعہ کسی سانحے سے کم نہیں کہ شامی حدود میں موجود اس کے ایک خفیہ فوجی اڈے کو روسی جنگی جہازوں نے تباہ کر ڈالا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ حملہ امریکہ کو شام کی جنگ میں تعاون پر مجبور کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔ تباہ ہونے والے فوجی اڈے کا امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے سے بھی قریبی تعلق بتایا گیا ہے۔
امریکی ٹی وی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ فوجی اڈے کی تباہی بہت بڑا واقعہ ہے اور اس میں ہلاکتوں کا خدشہ بھی ہے لیکن اس کے باوجود وائٹ ہائوس اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کمپرومائز کی پالیسی اپنا کر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔وال سٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکہ اور روس کے درمیان یہ اتفاق ہوگیا تھا کہ روس امریکی حمایت یافتہ باغیوں پرحملے نہیں کرے گا اور اب فضائی کارروائی کا رخ القاعدہ کی ذیلی جماعت النصرہ کی جانب کیا جائے گا تاہم پینٹاگون اور سی آئی اے کا خیال ہے کہ امریکا روس کے سامنے جھک گیا ہے اور وہ اب بھی اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ امریکہ کو روس کا سامنا کرنا چاہیے۔
ادھر شام میں مختلف علاقوں میں فضائی حملوں میں مزید بیسیوں افراد مارے گئے۔ باغیوں کے زیرقبضہ الفردوس ضلع کو بھی نشانہ بنایا گیا۔سعودی عرب اور امریکہ یہ طے کرچکے تھے کہ شامی صدر بشارالاسد کو بہرصورت اقتدار سے ہٹایا جائے گا مگر پھر روس بشار الاسد کی مدد کو آن پہنچا۔ سعودی عرب نے اب رکاوٹ کو بھی راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے، اور اس مقصد کیلئے روس پر نوٹوں کی بارش کرنے کی پیشکش بھی کر دی ہے۔دی ماسکو ٹائم کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے صدر بشارالاسد کی حمایت ختم کرنے کے بدلے روس کو اربوں ڈالر کے تجارتی معاہدوں اور سرمایہ کاری کے مواقعوں کی پیشکش کردی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیرنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ سعودی عرب روس کو خلیج تعاون کونسل کی مارکیٹ اور علاقائی سرمایہ کاری فنڈز تک رسائی فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر روس شامی تنازعے پر کمپرومائز کیلئے تیا رہو تو اسے مشرق وسطیٰ میں قدم جمانے کا موقع مل سکتا ہے۔

 

نواے وقت