- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

زندگی کے چیلنجوں سے نمٹنے کا بہترین راستہ تقویٰ ہی ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے پندرہ جولائی دوہزار سولہ کے خطبہ جمعہ میں زندگی کے ہر لمحے اور شعبے میں تقویٰ کی خیال داری پر زور دیتے ہوئے اسے مسائل و چیلنجوں سے نمٹنے کی بہترین راہ قرار دی۔
خطیب اہل سنت زاہدان (ایران) نے اس شہر کے ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے کہا: جس دنیا میں ہم رہتے ہیں مختلف قسم کے مسائل، مشکلات اور آفات و دشمنیوں سے سامنا ہوسکتاہے۔ اس دنیا میں تمام لوگ اور بطور خاص دین و شریعت اور میانہ روی کے پیروکار انسی و جنی شیطانوں کے وسوسوں کی زد میں ہیں۔
’اللہ تعالی سے مدد مانگنے‘ پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا: حکمِ الہی ہے کہ ایسے وسوسوں سے جان چھڑانے کے لیے اللہ تعالی ہی سے مدد مانگیں اور اسی کے یہاںپناہ لیں۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک کی آخری دو سورتوں (معوذتین) کو اسی مقصد کے تحت نازل فرمایا کہ بندہ ہمیشہ اس کی یاد میں ہو اور اسی سے پناہ مانگ لے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: تقویٰ کا مطلب ہے اللہ تعالی کے تمام احکام اور دستورات سے اطاعت اور منہیات و گناہوں سے پرہیز کرنا۔ ایمان، توکل، نماز پڑھنا، زکات دینا، صبر و برداشت، حقوق اللہ اور حقوق العباد کا احترام تقویٰ ہی کی نشانیاں ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: تقویٰ سے اللہ تعالی کی نصرت و مدد ساتھ آتی ہے۔ اللہ تعالی نے دنیا و آخرت میں متقی و پرہیزگار لوگوں کو خوشخبری سنائی ہے اور انہیں جنت کا وعدہ دیا گیاہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں انہیں دنیا و آخرت میں کوئی خوف اور غم سے نجات مل جائے گی اور آرام دہ زندگی ان کو نصیب ہوگی۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے ’ایمان’ اور ’تقوی‘ کو اولیائے الہی کی واضح نشانیوں میں شمار کرتے ہوئے کہا: ایمان اور تقویٰ دو ایسی چیزیںہیں جو انسان کو اولیاءاللہ کے زمرے میں داخل کرتی ہیں۔ ہر قسم کے چینلج اور مشکل سے مقابلے کا بہترین راستہ تقوی ہی ہے۔ تمام پیغمبر اور اولیا و مقربین کو تقویٰ کی بدولت نجات حاصل ہوئی۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں زور دیتے ہوئے کہا: تقویٰ سبب نجات ہے جس سے اللہ تعالی کی نصرت و مدد حاصل ہوجاتی ہے۔ اگر ہم بوقت مشکل تقویٰ کی طرف پلٹیں، ہمیں ہر قسم کی مشکل اور پریشانی سے نجات مل جاتی ہے۔ لہذا پنی مختصر زندگی غفلت میں نہ گزاریں اور آخرت کے لیے تیاری کریں۔