اور اُس کے نتائج و ثمرات
کتاب و حکمت کی تعلیم دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض منصبی میں سے تھا، چنانچہ آیہ شریفہ میں کہا گیا ہے: ’’ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ ‘‘ (۱) ’’وہ انہیں کتاب الہی اور دانائی کی تعلیم دیں‘‘۔
یہاں حکمت سے کیا مراد ہے؟ نامور مفسر و مجتہد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے اس کی تفسیر حلال و حرام کا فہم، دینی تفقہ اور فقہی بصیرت سے کی ہے۔ (۲)
یہی معنی حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے منقول ہیں، امام مالک رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے یہی معنی مراد لیے ہیں۔ (۳) ائمہ اصول میں سے امام سرخسی رحمہ اللہ نے ’’اصول السرخسی‘‘ اور امام بزدوی رحمہ اللہ نے ’’اصول البزدودی‘‘ کے آغاز میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کے قول ’’التفقہ فی الدین‘‘ (فقہی بصیرت) کو نقل کیا ہے۔
بعض مفسرین اور امام شافعی رحمہ اللہ حکمت سے ’’سنت‘‘ مراد لیتے ہیں۔ (۴) بعض نے دانائی مراد لی ہے۔ (۵) یہی ائمہ لغت کے اقوال ہیں۔ (۶) لیکن فقہی بصیرت، سنت اور دانائی و غیرہ سب قریب قریب ہم معنی ہیں۔ سب کا حاصل تفقہ، رائے و اجتہاد اور فقہی بصیرت پر عمل کیا اور خیر امت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو کس طرح اس سے آشنا اور خوگر کیا اور کس طرح اس کے استعمال کا طریقہ سکھایا اور تربیت کی، کیسے ان میں مجتہدین تیار کیے، کس طرح اس طریقہ اجتہاد و رائے کی ہمت افزائی فرمائی اور کس انداز سے فقہی بصیرت اور رائے پر پسندیدگی اور مسرت کا اظہار فرمایا، کس طریقے سے شریعت میں رائے و اجتہاد کی گنجائش و سہولت فراہم کی اور کن کن نصوص و آیات نے اس سلسلے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی رہنمائی کی، مجتہدین صحابہ رضی اللہ عنھم کس طرح اس سنتِ متوارثہ پر عمل پیرا و کاربند رہے، اسلامی قلمرو کس طرح اس کے ثمرات و نتائج سے بہرہ ور ہوتا رہا اور خیر امت نت نئے مسائل کا حل نکال کر راہ نجات حاصل کرتی رہی؟! اس کا جائزہ اس مختصر مقالے میں پیش کیا گیا ہے۔ یوں یہ مقالہ عہد رسالت و عہد صحابہ میں رائے و اجتہاد اور فقہی بصیرت کے استعمال کی ایک تاریخی دستاویز بن گیا ہے۔
تفقہ فی الدین (فقہی بصیرت) کی اہمیت
آغاز بحث سے پہلے ’’تفقہ فی الدین‘‘ (فقہی بصیرت) کی اہمیت پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ فقہی بصیرت اللہ تعالی کی بہت پسندیدہ نعمت ہے جو وہ اپنے محبوب اور پسندیدہ بندوں کو عطا کرتا ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ المتوفی ۷۲۸ھ فرماتے ہیں:
’’والحدیث فی الصحیح عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: من یرد اللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین (۸) و لازم ذلک أن من لم یفقھہ اللہ فی الدین لم یرد بہ خیرا فیکون الفقہ فی الدین فرضا۔ والتفقہ فی الدین: معرفۃ الأحکام الشرعیۃ بأدلتھا السمعیۃ، فمن لم یعرف ذلک لم یکن متفقھا فی الدین‘‘۔ (۹)
’’صحیح بخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی جس بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اُسے دین میں تفقہ (فقہی بصیرت) عطا کرتا ہے۔ اس کا لازمی اثر یہ ہے کہ جسے تفقہ کی نعمت سے سرفراز نہیں فرماتا اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ نہیں ہوتا۔ دین میں تفقہ بقدرِ استطاعت و طاقت ہر مسلمان پر فرض ہے۔ تفقہ فی الدین مجتہد کا شرعی احکام کو دلائل نقلیہ سے جاننا ہے۔ اس حقیقت کو جو نہیں سمجھتا وہ دین میں تفقہ ۔فقہی بصیرت یعنی خیر الہی۔ سے بہرہ وہ نہیں‘‘۔
تفقہ کی حقیقت
’’تفقہ فی الدین‘‘ اور ’’فقہی بصیرت‘‘ ایسی عظیم نعمت ہے جو اللہ تعالی کی طرف سے اس کے پسندیدہ بندوں کو عطا کی جاتی ہے۔ حسب تصریح امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس کا مصداق مجتہدین و فقہا ہیں، اس لیے کہ وہی دلائل نقلیہ سے مسائل کا استنباط کرتے اور تفریع مسائل کرتے ہیں۔ اس نعمت سے جو محروم ہیں وہ ان محبوبانِ الہی کو ’’اصحاب الرائے‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں اور کہتے ہیں: ’’انہ من اصحاب الرأی‘‘ ۔۔۔ ’’وہ اصحاب الرائے میں سے ہے‘‘۔۔۔ ان الفاظ سے ان پر طعن و تشنیع کرتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے سطور بالا میں جس رائے کا ذکر کیا ہے، وہ اسلام میں متواتر و متوارث سنت رہی ہے، جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
’’نصوص‘‘ کے زیر اثر ’’رائے‘‘ کی قدر و قیمت
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے مذکورہ بالا بیان سے یہ حقیقت بھی عیاں ہوجاتی ہے کہ وہ رائے جو ہویٰ و ہوس پر قائم ہو ’’شر‘‘ ہے، شریعت میں لائق ملامت اور حرام ہے۔ اور وہ رائے جو دلائل نقلیہ اور شرعی نصوص کی روشنی میں مجتہد کی اجتہادی سرگرمی اور فقہی بصیرت سے معرضِ وجود میں آتی ہے، شریعت میں ’’خیر‘‘ سمجھی اور قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے، چنانچہ مجتہد اگر اپنی سعی میں کامیاب ہوتا ہے تو اُسے دوہرا اجر عطا کیا جاتا ہے اور اگر اس سے اس میں خطا ہوتی ہے تو بھی اس کی حق جوئی کی سرگرمی کے صلے میں اُسے اکہرا اجر دیا جاتا ہے، چنانچہ صحیح البخاری میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اذا حکم الحاکم فاجتھد فأصاب فلہ أجران، واذا حکم فاجتھد ثم أخطأ فلہ أجر‘‘۔(۱۰)
’’حاکم و قاضی جب فیصلہ کرنے کا ارادہ کرے، اجتہاد کرے اور اپنے اجتہاد میں حق تک رسائی حاصل کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور اس نے جب اجتہاد سے فیصلہ کیا اور اس میں سے چوک ہوئی تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔‘‘
وہ ’’فقہی بصیرت‘‘ جس کا ذکر امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اوپر کیا ہے، اللہ تعالی نے اُسے پسندیدہ نعمت قرار دیا ہے۔
’’اجتہاد‘‘ و ’’قیاس‘‘ اور ’’فقہی بصیرت‘‘ ایک حقیقت کی مختلف تعبیرات
یہ فقہی بصیرت، اجتہاد اور قیاس ایک حقیقت کی مختلف تعبیرات ہیں، چنانچہ اصطلاح میں اس عمل کو قیاس سے تعبیر کیا جاتا ہے، فقہا اس کی تعریف یوں کرتے ہیں:
’’القیاس فی الشرع تقدیر الفرع بالأصل فی الحکم و العلۃ‘‘ (۱۱)
’’حکم اور علت میں اصل کے ساتھ فرع کا اندازہ لگانا (اور ان میں باہمی مطابقت و موافقت کو) جانچنا اور پرکھنا شرع میں ’’قیاس‘‘ ہے۔‘‘
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کا ’’رائے‘‘ کے متعلق ارشاد اور اس کا مطلب
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رائے کی مذمت میں حسب ذیل الفاظ منقول ہیں:
’’أیّ أرض تقیلنی، أیّ سماء تظلنی‘‘
’’کونسی زمین مجھے جگہ دے گی اور کونسا آسمان مجھ پر سایہ فگن ہوگا؟‘‘۔
اس کا مطلب اور اس کی مراد یہ ہے کہ میں نص (صریح حکم اور دلیل) کی موجودگی میں اپنی رائے سے کوئی بات کہوں۔ (۱۲) یہی وجہ ہے کہ صریح دلائل کی موجودگی میں اجتہاد کرنا جائز ہی نہیں، نہ کبھی کسی نے ایسا کیا ہے اور نہ کسی کو ایسا کرنے کی شریعت میں اجازت ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: ’’ایاکم و أصحاب الرأی‘‘(۱۳) ۔۔۔ ’’اصحاب الرائے سے بچو‘‘۔۔۔ کہ انہیں حدیثیں یاد کرنے نے تھکادیا، حدیثیں پوری یاد نہ کرسکے اور رائے زنی شروع کردی۔
اور تو یہ باتیں حضرت عمررضی اللہ عنہ سے صحیح طور پر منقول نہیں (اس لیے لائق توجہ نہیں)۔ دوسری بات یہ کہ اس سے مراد وہ اصحاب الرائے ہیں جو ہرائے نفسانی کا شکار ہوں اور بغیر نظیر و قیاس کے رائے دیتے اور کتاب و سنت اور اجماع کے اصول کو نظر انداز کرتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’لو کان الدین بالقیاس لکان باطن الخف أولیٰ بالمسح من ظاھرہ‘‘۔
’’اگردین کا مدار قیاس پر ہوتا تو چمڑے کے موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا زیادہ بہتر ہوتا اوپر کے حصہ پر مسح کرنے سے۔‘‘
’’انہ رأی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یمسح ظاھر الخف دون باطنہ‘‘۔
’’انہوں (حضرت علی رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چرمی موزے کے ظاہری حصہ پر مسح کرتے دیکھا، نہ کہ نچلے حصہ پر۔ (اس لیے فرماتے ہیں: میں ظاہری حصہ پر مسح کرتا ہوں)۔‘‘
ان کا مطلب یہ تھا کہ شریعت کے اصول قیاس کے طریقہ سے ثابت نہیں، ان کا طریقہ توفیقی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا سکھایا ہوا ہے) یہ اللہ تعالی کی طرف سے مقرر کیے گئے اصول ہیں۔(۱۴)
اور حضرت مسروق رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ، وہ فرماتے تھے:
’’قرّاؤکم و صلحاؤکم یذھبون، یتخذ الناس رؤسا جُھالا یقیسون الامور برأیھم‘‘۔ (۱۵)
’’تمہارے قاری اور نیک لوگ اٹھتے جارہے ہیں، لوگوں نے جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیا جو رائے زنی کرنے لگنے ہیں۔‘‘
یہاں بھی مذمت ایسی رائے کی ہے جو اصول منصوصہ کے خلاف ہوتی ہے۔ اس بنا پر اصول منصوصہ سے ناواقف ہونے کے باوجود قیاس و رائے سے فیصلہ کرنا جائز نہیں۔ (۱۶)
حضرت مسروق رحمہ اللہ کا یہ قول: ’’لا أقیس شیئا بشیء فانی اخاف أن تزلّ قدمی‘‘۔ (۱۷)
’’میں ایک شئے کو دوسرے شئے پر قیاس کرنے سے ڈرتا رہتا ہوں کہ میرا قدم (راہ حق سے) نہ ڈگمگا جائے‘‘۔
یہ کہنا بھی احتیاط کی وجہ سے تھا۔ خصاص رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ بات مسروق رحمہ اللہ کی رائے و قیاس میں احتیاط اور غلطی سے بچنے پر دلالت کرتی ہے۔(۱۸)
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے تھے: ’’اول من قاس ابلیس‘‘۔ (۱۹) ’’سب سے پہلے جس نے نص کے مقابلہ میں قیاس کیا، وہ شیطان تھا‘‘۔ ان کا مقصد یہ جتانا تھا کہ نص کی موجودگی میں قیاس کرنا درست نہیں۔ حدیث و آثار میں جہاں رائے کی مذمت آئی ہے، وہاں نصوص کے مقابلے میں رائے زنی کرنا مراد ہے جو کسی طرح درست نہیں، یعنی اس سے مراد وہ آرا ہیں جن کی بنا فاسد قیاسات پر ہو، نہ کہ شرعی قیاس پر۔
اجتہاد کا محل و مقام
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نص (حکم صریح) جہاں نہیں ہوتی، یا نص میں کئی احتمال کی۔ گنجائش ہوتی ہے ایسی جگہ مجتہد اجتہاد کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر کسی مجتہد کو اجتہاد کی حاجت نہیں، نہ کبھی کوئی مجتہد اجتہاد کی جرأت کرسکتا ہے اور انہی جگہوں میں (جہاں نص نہ پائی جاتی ہو یا پھر نص میں کئی احتمال موجود ہوتے ہوں) مجتہد کی تقلید کی جاتی ہے۔ (۲۰)
لہذا رائے کی مذمت میں جو اقوال بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے (سنن الدرامی و غیرہ میں) منقول ہیں، ان کا مطلب یہی ہے کہ ’’کتاب اللہ‘‘ اور ’’سنت رسولﷺ‘‘ اور ’’اجماع‘‘ کے اصول سمجھنے اور یاد کرنے سے پہلے رائے کا استعمال کرنا اور اجتہاد کرنا صحیح نہیں۔ (۲۱)
انہی وجوہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے جب کوئی واقعہ اور نیا مسئلہ و حادثہ رونما ہوتا تو وہ حاضرین صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس کا شرعی حکم معلوم کرتے اور اس کے متعلق یہ پوچھتے تھے کہ کسی کے پاس اس مسئلے میں کوئی حدیث موجود ہے؟ اس پر بس نہیں کرتے، بلکہ اسلامی قلمرو میں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لکھ کر معلوم کرتے تھے، پھر اپنی رائے (اور فقہی بصیرت) سے فتویٰ دیتے تھے۔ (۲۲)
اجتہاد کے ناگزیر ہونے کے دو سبب
اجتہاد کے قائل ہونے اور اس پر عمل کرنے کے دو سبب ہیں: پہلا سبب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تعلیم و تربیت کی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے سمجھا، اس پر عمل کیا، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کے قائل اور اس پر کاربند رہے۔ وہ کسی نہ کسی درجہ میں اس صفت سے آراستہ تھے، ان میں سے کسی کو اس کے جواز میں کسی قسم کا تامل و تردد نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کوئی اجتہاد کا منکر نہیں پایا گیا۔
ہر ایک جانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین و خلیفہ ’’اجتہادی رائے‘‘ سے مقرر کیا اور انہوں نے ’’اجتہاد‘‘ کو دین و شریعت کا رکن سمجھا، اگر ایسا ہوتا تو ’’اجتہاد‘‘ اور ’’اجتہادی رائے‘‘ پر ان کا اتفاق نہ ہوتا۔
دوسرا سبب یہ ہے کہ ’’قیاس‘‘ اور ’’اجتہاد‘‘ پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ’’اجماع‘‘ ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع و اتفاق ’’حجت‘‘ ہے، اس لیے اس میں اختلاف کرنے کی قطعا گنجائش نہیں اور نہ اس سے باہر رہ کر کچھ کہنے کی اجازت ہے۔ (۲۳) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اپنے اجتہاد کے متعلق یہ فرمان ہے:
’’أقول فیھا برأی فان یکن صوابا فمن اللہ و ان یکن خطأ فمنی‘‘ (۲۴)
’’ اس (یعنی کلالہ۔ وہ میت جس کی نہ اولاد ہو، نہ ماں باپ۔) کے متعلق جو کہتا ہوں، یہ میری رائے ہے۔ اگر درست ہے تو اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور اگر یہ غلط ہے تو یہ میری غلطی اور بھول چوک ہے‘‘۔
مطلب یہ ہے کہ حق تک رسائی اور اس کی جستجو میں صواب و خطا دونوں کا احتمال ہوتا ہے، اس لیے مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ یہ میرا قیاس و رائے ہے، یہ درست ہے تو حق کا فیضان ہے کہ اس نے مجھے حق کی راہ سمجھائی، ورنہ میری خطا اور بھول چوک ہے، تا ہم یہ اس کا کرم ہے کہ حق کی جستجو اور کوشش کے صلے میں مجھے ایک اجر عطا کرتا ہے۔ یہ بات شریعت میں اجتہاد کے جواز اور پسندیدہ ہونے کی صریح دلیل ہے۔
مجتہدین کو قرآن کی ہدایت
قرآن کریم کی بہت سی آیات میں مجتہدین کو اجتہاد کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد ربانی ہے: ’’ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ‘‘۔ (۲۵) ’اور ان معاملات میں مشورہ لیتے رہیے‘‘۔
یہ آیت تمام امور میں عام ہے، اس لیے کہ ’’الأمر‘‘ میں الف لام جنس کا داخل ہے، اس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہے اور ہم بھی تبعاً اس کے مخاطب ہیں، اس لیے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تخصیص کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ (۲۶) دوسری جگہ فرمایا گیا ہے:
’’فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ‘‘ (۲۷)
’’اور اگر تم میں اختلاف ہوجائے کسی چیز میں تو اس کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف لوٹالیا کرو۔‘‘
اس آیت میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ ’’ردّ الی اللہ‘‘ سے مراد ’’کتاب اللہ‘‘ اور ’’ردّ الی الرسول‘‘ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف رجوع کرنا اور اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں اس بات کا صریح حکم ڈھونڈنا مراد ہے۔ اور قرآن کا یہ حکم تمام باتوں کے لیے آیا ہے۔
’’ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ ‘‘ (۲۸)
’’اور اگر یہ لوگ اُسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا اپنے میں سے صاحبان امر کے حوالہ کردیتے تو ان میں سے جو لوگ استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ اس کی حقیقت بھی جان لیتے۔‘‘
یہ آیت بھی مذکورہ اوصاف کے ساتھ تمام باتوں میں عام ہے۔ اور چوتھی جگہ ارشاد باری تعالی ہے:
’’ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ ‘‘۔ (۲۹) ’’سو اے دانشمندو! عبرت حاصل کرو‘‘۔
یہ آیت بھی ہر بات کے لیے ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے تمام حوادث و واقعات میں جن کے متعلق قرآن و سنت کی صریح اور صاف ہدایت موجود نہیں، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے اجتہاد کرنے کو درست قرار دیا۔
فقہی بصیرت نہ رکھنے والوں کا حکم
ابوبکر جصاص رحمہ اللہ ’’باب القول فی تقلید المجتہد‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’وہ عامی شخص جو اجتہاد کا اہل ہی نہیں ہے، جب کسی نئی صورت حال سے دوچار ہوجائے تو اسے اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔ اللہ تعالی کا یہی حکم ہے‘‘ (۳۰)
چنانچہ فرمایا گیا ہے:
’’ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ‘‘ (۳۱)
’’سو اگر تم لوگوں کو علم نہیں تو اہل علم سے پوچھ دیکھو‘‘۔ اور دوسری جگہ حکم دیا گیا ہے:
’’ فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ ‘‘ (۳۲)
’’یہ کیوں نہ ہو کہ ہر ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کھڑا ہوا کرے، تا کہ یہ (باقی لوگ) دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں اور تا کہ یہ اپنی قوم والوں کو جب وہ ان کے پاس واپس آجائیں ڈراتے رہیں، عجب کیا کہ وہ محتاط رہیں‘‘۔
یہاں امت مسلمہ کو پیش آنے والے واقعات و حوادث میں اہل علم کے قول کو قبول کرنے کا حکم ہے۔ چنانچہ امت مسلمہ کو صریح حکم دیا گیا کہ فقہا کی ایک جماعت تیار کریں جو دینی امور میں ان کی رہنمائی کے فرائض انجام دے، چنانچہ امت مسلمہ کے فقہا عہد صحابہ رضی اللہ عنہم (پہلی صدی) اور دور تابعین رحمہم اللہ اور اس کے بعد سے اب تک (چودہویں صدی ہجری تک) فقہی بصیرت سے امت مسلمہ کی برابر رہنمائی کرتے رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی و حوالہ جات
۱: سورہ بقرہ: ۱۲۹
۲: تخریج احادیث اصول البزدوی رحمہ اللہ للحافظ قاسم ابن قطلوبغا رحمہ اللہ، کراچی، نورمحمد ۱۳۸۲ھ، ص:۴۔
۳: الجامع لأحکام القرآن للقرطبی، القاھرۃ، مطبعۃ دارالکتب المصریۃ، ۱۹۳۹ء، ج۳، ص۳۴۰۔
۴: رسالۃ الأم للشافعی رحمہ اللہ ، بیروت، دارالکتاب العربی، ۱۴۲۱ھ، ص۵۶۔
۵: ایضاً۔
۶: بصائر ذوی المیز فی لطائف الکتاب العزیز لمجدالدین الفیروزآبادی رحمہ اللہ، القاھرۃ، لجنۃ احیاء التراث الاسلامی، ۱۳۸۵ھ، ج۲، ص۴۹۔
۷: الجامع لأحکام القرآن، ج۲، ص۱۳۱۔
۸: صحیح البخاری، کراچی، نورمحمد، ۱۳۵۷ھ، ج۱، ص۱۶۔
۹: مجموعہ فتاوی شیخ الاسلام احمد بن تیمیہ رحمہ اللہ، الریاض، ۱۳۹۳ھ، ج۲۰، ص۲۱۲۔
۱۰: صحیح البخاری، ج۲، ص۱۰۹۲۔
۱۱: ابن نجیم، فتح الغفار بشرح المنار، مصر، مصطفی البابی ، ۱۳۵۵ھ، ج۳، ص۸۔
۱۲: أصول الجصاص، تحقیق محمد ناصر، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۲۰ھ، ج۲، ص۲۳۸۔
۱۳: ایضاً۔
۱۴: ایضاً۔
۱۵: أصول الجصاص، ج۲، ص ۲۳۶۔ ۲۳۹۔
۱۶: ایضاً۔
۱۷: ایضاً۔
۱۸: ’’ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ ‘‘ (سورہ بقرہ: 34) ’’اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب سجدے میں گر پڑے، مگر شیطان نے نہ مانا اور تکبر کیا۔‘‘
۱۹: ایضاً۔
۲۰: أصول الفقہ للجصاص رحمہ اللہ، ج۱، ص: ۲۳۶۔۲۳۸۔
۲۱: ایضاً۔
۲۲: ایضاً، ج۲، ص۳۶۹۔
۲۳: أصول الجصاص، ج۲، ص۲۲۸۔۲۲۹۔
۲۴: ایضاً، ج۲، ص:۲۳۶۔
۲۵: آل عمران: ۱۵۹۔
۲۶: الجصاص، ج۲، ص۲۶۸۔
۲۷: النساء: ۵۹۔
۲۸:ایضا: ۸۳۔
۲۹: الحشر: ۲۔
۳۰: الجصاص، ج۲، ص۲۶۸۔
۳۱: أصول الجصاص: ج۲، ص۳۷۱۔
۳۲: التوبہ: ۱۲۲۔
جاری ہے
مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی
ماہنامہ بینات، رجب المرجب ۱۴۳۵ھ