شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے تقویٰ و پرہیزکاری کو دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی یاد کرتے ہوئے اسے روزے کا سب سے بڑا ثمرہ قرار دیا۔
یکم جولائی دوہزار سولہ کو ایران کے جنوب مشرقی شہر زاہدان میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے خطیب اہل سنت نے خوف خدا کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: قرآن مجید کی تلاوت اور سنت حبیب ﷺ کے مطالعے سے ایسا معلوم ہوتاہے کہ ہر عبادت کے کچھ خاص مقاصد ہیں۔ اللہ تعالی نے ان احکام و عبادات کو ہماری تزکیہ، اصلاح اور تربیت کے لیے مقرر فرمایاہے۔ احکام شریعت کا فلسفہ ہماری روحانی قوت بڑھاناہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اللہ تعالی نے رمضان المبارک میں روزے کو فرض قرار دیا تاکہ ہم تقویٰ والے بن جائیں۔ تقویٰ روزے کا سب سے بڑا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ قرآن کریم متقی لوگوں کے لیے ہدایت ہے جیسا کہ خود قرآن میں ارشاد ہے؛ اہل تقویٰ بہتر طورپر قرآن کو سمجھ سکتے ہیں اور اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ اسی لیے رمضان میں زیادہ سے زیادہ تلاوت قرآن پر تاکید کی جاتی ہے۔
زندگی میں تقویٰ کے آثار پر گفتگو کرتے ہوئے ممتاز عالم دین نے کہا: قرآن پاک کے مطابق اللہ تعالی متقی لوگوں کو کچھ خاص نعمتوں سے نوازتاہے، مثلا فرقان (حق و باطل کی پہچان)، برائیوں کا کفارہ اور بخشش، دشمن کے کید و مکر سے نجات اور ایسی جگہ سے روزی کا انتظام جہاں سوچ بھی نہ جائے۔
انہوں نے مزیدکہا: دنیا و آخرت میں نجات صرف تقویٰ ہی کی بدولت حاصل ہوسکتی ہے اور یہی لباس زیب تن کرنا چاہیے۔ تقویٰ سے بڑھ کر کوئی بھی لباس بندوں کو خوبصورت نہیں بناسکتا۔ متقی لوگ اللہ اور اس کے بندوں کے یہاں محبوب و مقبول ہیں اور تقویٰ سفرِ آخرت کا بہترین توشہ ہے۔
’تقویٰ‘ کا مفہوم واضح کرتے ہوئے صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: تقویٰ کا مطلب ہے اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کا خیال رکھنا۔ تقویٰ ہم سے یہی چاہتا ہے کہ روزمرہ زندگی میں اپنے آس پاس موجود گناہوں سے بچ کر رہیں۔ متقی لوگ گناہوں اور معاصی سے دوری کرتے ہیں۔ لوگوں کے حقوق ضائع نہیں کرتے اور جھوٹ، الزام تراشی و غیبت سمیت تمام گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: سعادت و کامیابی کا راز تقویٰ اور خداترسی ہے۔ جنت کی بے شمار نعمتیں متقی لوگوں کو نصیب ہوتی ہیں۔ اللہ تعالی کی رضامندی متقی لوگوں کو حاصل ہوجاتی ہے اور ایمان کے ساتھ موت ان افراد کو نصیب ہوتی ہے جن کی زندگیاں تقویٰ کے ساتھ گزری ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: قرآن کریم میں حکم ہے کہ متقی بن جانے کے ساتھ ساتھ تقویٰ کا حق بھی ادا کرو۔ دشمنوں کے شر سے حفاظت کے لیے تقوی کا خیال رکھنا ضروری ہے جو زندگی کی خوشبوئی ہے اور انسان کا چہرہ اس سے نورانی ہوتاہے۔ گناہ خاص کر جھوٹ بولنا، تفرقہ ڈالنا اور اختلاف پیدا کرنے سے چہرے کا نور جاتاہے اور روسیاہی آتی ہے۔
اپنے خطاب کے اس حصے کے آخر میں شیخ الاسلام نے نفس پر غلبے کو روزے کا سب سے بڑا ثمرہ ہے اور اس کو پانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
بحرینی حکومت آیت اللہ عیسی قاسم کی شہریت واپس دے
اہل سنت ایران کے ممتاز عالم دین نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں بحرینی شیعہ عالم دین عیسی قاسم کی شہریت منسوخ کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: آیت اللہ عیسی قاسم بحرین کے ممتاز شیعہ عالم دین ہے جس کی شہریت بعض مخالفتوں کی وجہ سے حکومت کی جانب سے منسوخ ہوگئی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: کسی بھی حکومت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اپنے شہریوں کی شہریت منسوخ کرے اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا مخالف ہو اور اسٹیبلشمنٹ سے مخالفت کرے۔ ایسے حالات میں شہریت کی منسوخی راہ حل نہیں ہے، مذاکرات، مکالمہ اور مخالفین کے برحق مطالبات پر توجہ دینے سے مشکل نمٹنا چاہیے۔ شہریت منسوخ کرنا انصاف کے خلاف ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: افسوس کا مقام ہے کہ عالم اسلام میں فرقہ وارانہ اختلافات اور سیاسی و مذہبی منازعات اپنے عروج پر ہیں۔ میرے خیال میں ان اختلافات کی بنیادی وجہ مذہبی نہیں سیاسی ہے اور مذہب کا نام لے کر متحارب گروہ عوام کے مذہبی جذبات سے غلط فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے بحرینی حکام سے درخواست کی عالم اسلام کے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آیت اللہ عیسی قاسم کی شہریت کی منسوخی پر نظرثانی کرکے اپنے فیصلے کو واپس لیں۔
اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے ایران میں یوم قدس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی دن قرار دیا جو فلسطینی قوم کی حمایت اور اسرائیل کی قبضہ گیری کے خلاف ہے۔