Categories: عالم اسلام

کابل میں غیر ملکی گارڈز کی بس میں دھماکا، 14 ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پیر کو علی الصباح خودکش دھماکے میں 14 افراد ہلاک، 23 زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق بس نیپال اور فلپائن سے تعلق رکھنے والے سکیورٹی گارڈز کو ڈیوٹی پر لیکر جا رہی تھی۔
افغان حکومتی اہلکاروں کے مطابق اس حملے میں مزید آٹھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے ایک ترجمان صدیق صدیقی نے ایک ٹوئٹر پیغام میں تحریر کیا ہے، ’’ابتدائی رپورٹ کے مطابق آج [سوموار] کا دہشت گردانہ حملہ کابل میں ہوا جس کے نتیجے میں 14 افراد لقمہ اجل بنے جبکہ آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس ہلاک ہونے والوں کی شناخت کی کوششیں کر رہی ہے۔‘‘ اطلاعات کے مطابق خوُد کُش حملہ آور پیدل تھا اور وہ منی بس کے انتظار میں کھڑا تھا، جس پر نیپالی گارڈز سوار تھے۔
اس حملے کی ذمہ داری طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا کے ذریعے قبول کر لی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ حملہ پیر کو مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے کے قریب کابل کے مشرق میں جلال آباد کو جانے والی مرکزی سڑک کے قریب ہوا ہے۔ رواں سال رمضان کے دوران کابل میں ہونے والا یہ پہلا حملہ ہے۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اس سے قبل 19 اپریل کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 64 جانیں ضائع ہوئی تھیں جبکہ 340 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ اُس خونریز حملے کی ذمہ داری بھی افغان طالبان ہی نے قبول کی تھی جو 2001ء میں افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد سے مغرب نواز کابل حکومت کے خلاف بغاوت اور جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حال ہی میں واشنگٹن انتظامیہ نے افعانستان میں طالبان کے خلاف فضائی حملے کے لیے ہندو کُش کی اس ریاست میں اپنی فوجی قوت میں اضافے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد افغانستان کی قومی فورسز کو واضح طور پر تقویت فراہم کرنا ہے جس کے پاس طالبان کے خلاف فضائی کارروائیوں کے لیے موجود وسائل محدود ہیں۔

یاد رہے کہ 2015 ء کے بعد سے افغانستان میں امریکی فوج کا کردار مشاورتی ہے اور اُسے طالبان کو مارنے کی اجازت محض اپنے دفاع یا افغان فوجیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی صورت میں ہے۔ اس ضمن میں امریکی پالیسی میں تبدیلی کا مقصد یہ ہوگا کہ امریکی فوجی مقامی افغان جنگجوؤں کے ساتھ مزید قریبی تعاون سے طالبان پر حملہ کر سکیں گی۔ طالبان افغانستان سے تمام غیر ملکی فوجیوں کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

baloch

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

7 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago