- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

پارلیمان کی مجلس عاملہ میں اہل سنت کو رکنیت دی جائے

اہل سنت ایران کے ممتاز عالم دین مولانا عبدالحمید نے ایرانی پارلیمان کے نئے دور کے آغاز پر ارکان مجلس کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا نئی مجلس میں اہل سنت کو مجلس عاملہ میں رکنیت دینی چاہیے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے ستائیس مئی دوہزار سولہ کے خطبہ جمعہ زاہدان میں کہا: ہمارے لیے یہ بات امیدافزا ہے کہ نئی مجلس سابقہ مجلس سے زیادہ قوی ہے اور اس کی وجہ اس میں گوناگونی ہے جو ترقی کے اسباب میں ایک ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: افسوس سے کہنا پڑتاہے سابقہ مجلس شورا میں جماعتی و سیاسی مسائل اپنے عروج پر تھے۔ امید ہے تازہ مجلس میں ارکان پارلیمنٹ فراخدلی و دوراندیشی کا مظاہرہ کرکے ایران کی مہذب قوم کی تہذیب کی شان کے مطابق عمل کریں گے اور جماعتی و گروہی مسائل سے ہٹ کرملک کے قومی و بین الاقوامی مفادات کا خیال رکھیں گے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مجلس شورائے اسلامی کی مجلس عاملہ میں اہل سنت کو رکنیت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا: ہمیں توقع ہے نئی مجلس کی مجلس عاملہ میں کم ازکم ایک سنی رکن پارلیمان کو رکنیت دی جائے۔ یہ مسئلہ عالم اسلام کے اتحاد کے لیے اہم ہے تاکہ ہم دنیا کو دکھائیں ہمارے ملک میں شیعہ سنی کی کوئی تفریق نہیں ہے۔
انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا: پارلیمان کی مجلس عاملہ، حکومتی کابینہ اور دیگر پالیسی ساز اداروں میں اہل سنت کی لائق شخصیات کی صلاحیتوںسے فائدہ اٹھانا قومی اتحاد، اقتدار و عزت اور دشمن کی مایوسی کا باعث ہوگا۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: امید ہے نئی مجلس قوت کے ساتھ اپنا کام شروع کردے اور سابقہ مجلس سے رہ جانے والے مسائل کو حل کرنے کے علاوہ عالمی سطح پر ملک کی عزت کے لیے کوششیں تیز کردے۔

حکومت کے میگاپروجیکٹس سیستان بلوچستان میں مقامی لوگوں کے لیے روزگار فراہم کریں
ممتاز سنی عالم دین نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں چابہار فری زون کے خاص اقتصادی مقام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج چابہار نہ صرف صوبہ سیستان بلوچستان کا معاشی حب بن چکاہے بلکہ یہ پورے ملک کی اہم معاشی بندرگاہ بننے والی ہے۔
انہوں نے کہا: حال ہی میں ’آئی او آر اے‘ (IORA) کانفرنس چابہار میں منعقد ہوگئی جس میں صدرروحانی کے نائب اول اور بعض وزیروں کے علاوہ اہم بیرونی شخصیات بھی شریک ہوئیں، یہ خطے کے لیے ایک استثنائی موقع تھا۔ اس کانفرنس کا انعقاد چابہار فری زون کے لیے ایک تاریخی واقعہ ہے جس سے مختلف کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کی توجہ اس خطے پر مزید پڑے گی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: ایران، بھارت اور افغانستان کی سہ طرفہ میٹنگ میں چابہار فری زون کا مسئلہ پیش آیا جو اس موضوع کی اہمیت کی نشانی ہے۔ بھارت اور افغانستان سرمایہ کاری کے ذریعے چابہار کی بندرگاہ سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: امید ہے حکومت کے میگاپرجیکٹس بشمول چابہار فری زون، صوبہ سیستان بلوچستان میں غربت و بے روزگاری کے خاتمے کے لیے سنگ میل ثابت ہوں۔ یہ صوبہ پورے ملک کی بہ نسبت سب سے زیادہ غربت کا شکار ہے اور بے روزگاری عروج پر ہے، امید ہے اس پر توجہ دی جائے گی۔

اپنی اصلاح اور اہل خانہ کی تزکیہ کے لیے کوشش کریں
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے پہلے حصے میں قرآنی آیت: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» [تحریم: 6]، (اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر فرشتے سخت دل قوی ہیکل مقرر ہیں وہ الله کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انہیں حکم دے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے)؛ کی تلاوت سے اپنے خطبہ کا آغاز کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے مذکورہ آیت میں مومنوں کو خبردار کیاہے کہ خود کو اور اپنے عیال کو جہنم کی آگ سے بچائیں جس کے ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالی نے ہماری اپنی اور اہل خانہ کی اصلاح و تزکیہ کی ذمہ داری ہم ہی پر عائد کی ہے۔ اللہ رب العزت نے ہمیں حکم دیاہے کہ اپنی اور اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے راستہ ہموار کرو۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے پبلک سکولوں میں گرمی کی چھٹیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: والدین اپنے بچوں کی دینی تعلیم کے لیے منصوبہ بندی کریں۔ انہیں قرآن پاک اور ضروری احکام سیکھنے کے لیے مساجد اور مدارس میں داخل کرائیں جو سمر کیمپس قائم کرتے ہیں اور قرآنی کلاسز کا اہتمام کرتے ہیں۔