شیخالاسلام مولانا عبدالحمید نے تقویٰ اور تزکیہ کی اہمیت واضح کرتے ہوئے دنیا کی عارضی زندگی کو آخرت کی ابدی زندگی کے لیے تیاری کا بہترین موقع قرار دیا۔
سنی آنلائن کے مطابق، خطیب اہلسنت زاہدان نے انتیس اپریل دوہزار سولہ کے خطبہ جمعہ میں زاہدانی نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: سمجھدار شخص آخرت کی تیاری کےلیے اس فانی زندگی کا موقع غنیمت سمجھتاہے۔ بندہ اس فانی دنیا میں نیک اعمال مثلا نماز، روزہ، حج اور صدقات جیسی عبادتوں کے ذریعے آخرت کی تیاری کرسکتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: قرآن کریم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ آخرت کے لیے سب سے اچھا توشہ جو تقویٰ ہے، اسی کا دامن تھام لو۔ جب کوئی شخص کہیں سفر پر جانا چاہتاہے تو زادِ راہ تیار کرکے پوری تیاری کرتاہے۔ سفرِ آخرت کے لیے بھی تقویٰ اور عمل صالح کا توشہ تیار کرنا چاہیے۔ دنیا کی زندگی میں اگر کوئی مسافر توشہ کے لیے پریشان ہوجائے، ممکن ہے کوئی اس کی مدد کرلے لیکن آخرت کی زندگی میں روزِ محشر کو بھی تعاون کے لیے تیار نہیںہوگا۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے زور دیتے ہوئے کہا: اس دنیا میں اللہ تعالی نے بہت ساری سہولیات ہمارے اختیار میں رکھاہے، ان کا فائدہ اٹھاکر آخرت کے سفر کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔ قرآن پاک میں ارشاد الہی ہے: ’بے شک وہ کامیاب ہوا جو پاک ہوگیا، اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی۔‘
’دنیا کی محبت‘ کو تمام گناہوں کی جڑ یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا: بہت سارے لوگ دنیا کی محبت میں گرفتار ہوچکے ہیں اور اسی وجہ سے آخرت سے بھی غافل ہیں۔ حالاں کہ اللہ تعالی نے فرمایاہے آخرت آپ کے لیے دنیا سے بہتر ہے۔ دنیا کی محبت تمام گناہوں کا محور اور جڑ ہے جس کی وجہ سے بندہ گناہوں اور خطاووں کا ارتکاب کرتاہے۔ جو بندہ دنیا کی محبت میں گرفتار ہوتاہے، وہ دنیا کا دلدادہ بن جاتاہے اور آخرت سے غفلت کرتاہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں دارالعلوم زاہدان کی سالانہ تقریب دستاربندی کی آمد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: جمعرات پانچ مئی (ستائیس رجب) کو ہماری سالانہ تقریب دستاربندی منعقد ہوگی جو صوبے اور پورے ملک کےلیے خیر و برکت کا باعث ہے۔ اس سے پوری قوم نفع اٹھائے گی اور یہ عظیم اجتماع اتحاد و یکجہتی کی روشن مثال ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے قبولیت کی دعا کے لیے حاضرین سے درخواست کی مہمانوں کے اکرام و اعزاز کے لیے پوری طرح کوشش کریں۔
اپنے خطاب کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے خاش شہر میں پولیس ٹیم پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا: سکیورٹی فورسز عوام کی حفاظت کےلیے دن رات کوشاں ہیں، ان کی اپنی سکیورٹی محفوظ ہونی چاہیے۔ کسی بھی شخص پر بندوق اٹھانا قابل مذمت ہے اور ایسے اقدامات صوبے کے مفادات کے خلاف ہیں۔