- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

حلب: فضائی حملوں اور گولہ باری سے 202 افراد ہلاک

شام کے سب سے بڑے شہر حلب میں گذشتہ سات روز کے دوران باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر فضائی حملوں میں 18 بچوں سمیت 123 شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے جمعہ کو یہ اعداد وشمار جاری کیے ہیں لیکن یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ فضائی حملے شامی فوج نے کیے ہیں یا اس کے اتحادی روس کے لڑاکا طیاروں نے عام شہریوں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔
اس مانیٹرنگ گروپ نے شام میں موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ حلب میں حکومت کے کنٹرول والے علاقوں پر باغیوں کی گولہ باری سے 13 بچوں سمیت 71 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
شامی فوج کی حلب میں گولہ باری سے تین بچوں سمیت مزید آٹھ شہری مارے گئے ہیں۔گذشتہ روز پیرس میں قائم ڈاکٹروں کی تنظیم طبیبان ماورائے سرحد (ایم ایس ایف) کے زیر انتظام ایک اسپتال پر فضائی حملے میں کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے کہا ہے کہ اسپتال پر یہ فضائی حملہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔

حلب میں قتل عام کے بعد امریکا اور روس جنگ بندی پر متفق
شام کے سرحدی شہر حلب پر سرکاری فوج کی وحشیانہ بمباری میں بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد امریکا اور روس نے جنگ بندی کی کوششیں دوبارہ تیز کردی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان جاش ایرنسٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ “ہم جنگ بندی کے احیاء کے لیے پُرامید ہیں۔ حلب میں لڑائی روکنے اور فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنےکا پابند بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات کر رہے ہیں تاکہ مزید کشت وخون سے بچا جاسکے۔”
خیال رہے کی امریکا اور روس کی جانب سے حلب میں جنگ بندی کی تازہ مساعی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب حالیہ ایک ہفتے میں اسدی فوج کی وحشیانہ بمباری سے دو سو سے زاید افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
ادھر روسی خبر رساں اداروں نے شامی اپوزیشن رہنما قدری جمیل کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ “روس اور امریکا نے شام میں جنگ بندی کو دوبارہ فعال بنانے سے اتفاق کیا ہے۔ جلد ہی جنگ بندی کا دائرہ حلب، دمشق اور اللاذقیہ تک پھیلایا جائے گا۔ قدری جمیل کا کہنا تھا کہ وسط شب سے جنگ بندی کا اطلاق ہوسکتا ہے۔”
درایں اثناء روسی حکومت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں امریکا کے ساتھ رابطے میں ہے۔ روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شام میں ’خاموش نظام‘ ہرقسم کے اسلحہ کے استعمال اور عسکری کارروائیوں کی ممانعت کرتا ہے۔
شام میں جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے روسی مرکز کے عہدیدار جنرل سیرگی کور الینکوف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حلب میں تازہ بمباری کے بعد جنگ بندی کی مساعی تباہ سے دوچار ہوسکتی ہیں۔
شامی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دمشق اور اللاذقیہ میں جنگ بندی 30 اپریل کی شب کو نافذ ہوگئی ہے تاہم غیر جانب دار ذرائع سے جنگ بندی کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
سرکاری فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی الغوطہ اوردمشق میں عارضی جنگ بندی 24 گھنٹے جب کہ شمالی اللاذقیہ میں 72 گھنٹے کے لیے جنگ بندی کی گئی ہے۔

حلب میں جنگ بندی کی متضاد اطلاعات
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید بن رعد الحسین نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں بتایا کہ شام میں تازہ لڑائی نے سیاسی محاذ پر مسئلے کے حل کے لیے ہونے والی بات چیت کوسنگین خطرات سے دوچار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حلب میں سرکاری فوج کی وحشیانہ بمباری کے بعد ملک میں ہرطرف خوف وہراس کی فضا پائی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے عہدیدار نے متحارب فریقین پر زور دیا کہ وہ وسیع اور جامع جنگ بندی کا راستہ اختیار کریں، لڑائی بند کرتے ہوئے امن بات چیت کو موقع فراہم کریں۔ اگر بمباری اور لڑائی اسی طرح جاری رہی تو امن مساعی تباہی سے دوچار ہوسکتی ہیں۔
ادھر کل جمعہ کے روز شرعی کونسل نے حلب میں بمباری کے خوف سے نماز جمعہ کے اجتماعات کا انعقاد روک دیا تھا۔ کونسل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ خدشہ ہے کہ جمعہ کے اجتماعات پر بھی بمباری کی جائےگی۔ اسی خطرے کے پیش نظر پہلی بار جمعہ کی نماز منسوخ کی گئی ہے۔
حلب میں جنگ بندی کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ شامی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حلب میں بھی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ سرکاری فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں حلب کا ذکر نہیں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ