امت مسلمہ کو بالخصوص اور دنیا عالم کو بالعموم جس مشکل ترین چیلنج کا اس وقت سامنا کرنا پڑرہا ہے، وہ دہشت گردی اور انتہاپسندی ہے اور مختلف اطراف سے کیے جانے والے اقدامات کے باوجود اس میں شب و روز اضافہ ہورہا ہے۔
پاکستان سے لے کر یورپی ممالک تک اور یورپی ممالک سے امریکا اور افغانستان تک دہشت گرد اور انتہاپسند اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے جب، جس وقت اور جہاں چاہتے ہیں، اپنا ہدف متعین کرلیتے ہیں اور پھر اس کے نتیجے میں بے گناہ انسانوں کے بہنے والے خون سے لے کر حکومتوں کی املاک کی تباہی تک ہر اس خوفناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے دہشت گردوں کا خوف اور انتہاپسندوں کی سوچ تقویت پکڑتی ہے۔
دسمبر ۲۰۱۵ء میں سعودی عرب کی قیادت نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف مسلم ممالک کے قائدین کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ شروع کیا اور عالم اسلام کی صورتحال پر غور و فکر کرتے ہوئے ۳۴ اسلامی ممالک کے قائدین کی مشاورت کے ساتھ اسلامی فوجی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا،جس کا ہدف صرف اور صرف دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ مقرر کیا گیا۔ پاکستان ان ۳۴ ممالک میں سے ایک ایسا ملک ہے، جس کی طرف ہر مشکل مرحلے میں ملت اسلامیہ نظر لگا بیٹھتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی اپنی تمام تر پریشانیوں کے باوجود عالم اسلام کے مظلوم مسلمانوں کی نظریں اگر کسی طرف اٹھتی ہیں تو وہ پاکستان اور سعودی عرب ہی ہیں۔ عالمی اسلامی فوجی اتحاد کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور کیا یہ اتحاد کسی مکتبہ فکر یا ملک کے خلاف ہے تو گزشتہ چند ماہ کے دوران اس حوالے سے ملنے والی تفصیلات، معلومات اور حقائق سے یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ اس اتحاد کا مقصد کسی ملک یا کسی مکتبہ فکر کو ہرگز نشانہ بنانا نہیں ہے۔ اسلامی دنیا پر ہمیشہ بعض ناقدین یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کی سرپرستی کرتی ہے۔
اس اتحاد کے قیام کے اعلان نے ایسے تمام مفروضوں کی یکسر نفی کردی ہے اور اس بات کو واضح کردیا ہے کہ دنیا کے حالات اور عالم اسلام کی صورتحال ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کا تقاضا کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع امیرمحمد بن سلمان نے مسلم قائدین کے سامنے اس صورتحال کو رکھا اور اس بات پر مسلم قیادت نے اتفاق کیا کہ دہشت گرد اور انتہاپسند قوتیں بغیر کسی حدود اور تمیز کے ہر کسی کو نشانہ بنارہی ہیں اور ان کے حملوں کا سلسلہ بڑھتا چلا جارہا ہے۔ وہ ایک ہی دن میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کو نشانہ بناتے ہیں اور ان کی اس جارحیت کا جواب باہمی اتحاد سے ہی دیا جاسکتا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے اتحاد نے بلاتفریق تمام انتہاپسند اور دہشت گرد گروہوں اور جماعتوں کو اپناہدف بنانے کا فیصلہ کیا اور اسی فکر اور سوچ کی ملت اسلامیہ کو ضرورت ہے۔ اس اتحاد کے اہداف کے ساتھ ساتھ اس کے طریقہ کار اور اس میں شامل ممالک کی ذمہ داریوں کے تعین کے حوالے سے بہت ساری چیزیں رو بعمل ہیں اور بہت ساری چیزیں زیر تجویز ہیں، جن میں فوجی اتحاد کے ساتھ ساتھ مسلم نوجوانوں کو انتہاپسندانہ سوچ سے بچانے کے لیے نظریاتی اور فکری اتحاد سب سے اہم اور مقدم ہے۔
اس وقت انتہاپسند تنظیمیں اپنا سب سے بڑا ہدف مسلم نوجوانوں کو بنائے ہوئے ہیں اور ان کو ذہنی اور فکری طور پر یرغمال بنانے کے لیے وہ قرآن و سنت، اسلام اور جہاد کے نام کا جس طرح استعمال کررہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ مسلم علماء جن کا مسلم عوام اور نوجوانوں میں اثر رسوخ ہے اور جو قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، ان کو متحد کیا جائے اور ان کے لیے ایسا پلیٹ فارم بنایا جائے کہ جہاں سے وہ ہر ہر لمحہ اسلام، جہاد، قرآن و سنت کے حوالے سے پھیلائے جانے والے غلط نظریات کا جواب سے سکیں۔ اسلامی عسکری اتحاد بھی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیموں کے افکار و نظریات کو چیلنج کرنے اور مسلم نوجوانوں کو ان سے بچانے کے لیے جد و جہد وقت اور حالات کا تقاضا ہے اور یہ عالمی اسلامی فوجی اتحاد بھی اس وقت اپنی کامیابیوں کو زیادہ سمیٹ سکتا ہے جب وہ ہر اس محاذ پر جد و جہد کرے، جس سے دہشت گردی اور انتہاپسندی اور فرقہ وارانہ تشدد پروان چڑھ رہے ہیں۔
یہاں ایک بڑا اہم سوال مسلسل اٹھایا جارہا ہے کہ اس اتحاد میں مسلم دنیا کے دو تین ممالک کیوں شامل نہیں ہیں؟
در اصل جس طرح ۳۴ سے زائد ممالک مسلم دنیا میں قائم تمام انتہاپسند اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ایک سوچ اور نظریہ رکھتے ہیں، اس اتحاد میں شامل نہ ہونے والے بعض مسلم ممالک عرب دنیا میں تخریب اور دہشت پھیلانے والے بعض گروہوں کے بارے میں نہ صرف نرم رویہ رکھتے ہیں بلکہ شام، یمن اور عراق میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ان گروہوں کی سرپرستی بھی کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں جب عرب اور اسلامی دنیا کو غیرمستحکم کرنے والے گروہوں کے بارے میں کچھ ممالک اچھے اور برے دہشت گرد کا نظریہ رکھتے ہوں تو کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس اتحاد کا حصہ بنیں۔
اگرچہ پاکستان سمیت بعض ممالک کی یہ کوشش اور خواہش ہے کہ عرب دنیا اور ایران کے درمیان معاملات حل ہوجائیں، لیکن یہ معاملات اس وقت تک بہتر ہوتے نظر نہیں آتے جب تک شام اور یمن کی صورتحال درست نہیں ہوتی اور جس طرح گزشتہ دنوں سعودی عرب کے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ امیر ترکی الفیصل نے واضح طور پر کہا کہ اگر شام میں ایران کی مداخلت ختم ہوجائے تو سعودی عرب، ایران مذاکرات کا راستہ ہموار ہوجائے گا اور یہی سوچ و فکر کچھ دیگر عرب ممالک کی بھی ہے۔
ایران کے بھی ان معاملات پر اپنے تحفظات ہوں گے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس وقت انتہاپسندی اور دہشت گردی کا جو خطرہ پوری دنیا کے لیے پیدا ہوچکا اور جس کا نشانہ یورپی ممالک بن رہے ہیں، اس کا مقابلہ صرف اور صرف باہمی اتحاد اور مسلم نوجوانوں کی ذہنی اور فکری تربیت سے کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں بننے والا عالمی اسلامی فوجی اتحاد مثبت سمت ایک پہلا قدم ہے جو ملت اسلامیہ کی امنگوں کا ترجمان ہے۔ یہ بات کس حد تک درست ثابت ہوگی، اس کا فیصلہ تو مستقبل کرے گا، لیکن آج یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ دیرآید درست آید۔۔۔
تحریر: حافظ طاہرمحمود اشرفی
روزنامہ اسلام، ادارتی صفحہ، ۶؍اپریل؍۲۰۱۶ء