ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ایک زوردار کار بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں ستائیس افراد ہلاک اور پچھہتر زخمی ہوگئے ہیں۔
صوبہ انقرہ کے گورنر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بم دھماکا شہر کے مصروف وسطی علاقے كيزيلائی میں واقع ایک پارک کے نزدیک بس اسٹاپ پر ہوا ہے۔بیان میں ستائیس ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی ہے۔
ترکی کے این ٹی وی ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق ایک کار ایک بس سے جا ٹکرائی جس سے زوردار دھماکا ہوا ہے۔اس سے لگتا ہے کہ بم کار میں نصب تھا۔دھماکے سے وہاں کھڑی متعدد گاڑیوں کو آگ لگ گئی ہے۔
واقعے کے فوری بعد ترک سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے۔پولیس اہلکاروں نے وہاں موجود لوگوں اور صحافیوں کو ہٹا دیا اور خبردار کیا ہے کہ ایک اور دھماکا ہوسکتا ہے۔مہلوکین کی لاشیں اور زخمیوں کو شہر کے دس اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔حکام کے مطابق متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔انقرہ میں اس بم دھماکے سے تین ہفتے کی قبل ہی فوجی گاڑیوں کے ایک قافلے کو خودکش بم حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا اور اس دھماکے میں انتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں آزادی کے نام سکیورٹی فورسز سے برسر پیکار کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے وابستہ ایک کرد جنگجو گروپ نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید