وفاقی شرعی عدالت کے جج اور مفتی اعظم پاکستان جناب جسٹس ریٹائرڈ تقی عثمانی نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل میں ممتاز قادری شہید کی پھانسی کو غلط قرار دے دیا ہے۔
مفتی اعظم پاکستان نے کہا کہ ویسے کسی شخص کا قانون کو ہاتھ میں لینا درست نہیں ہے مگر کوئی مسلمان حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے تو وہ واجب القتل ہوجاتا ہے اور اسکی سزا موت ہے جو کہ حکومت کا کام ہے اسکو سزا دے کوئی شخص خود سے یہ سزا نہیں دے سکتا۔
مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سزا دینے میں ناکام ہوجائے یا کسی شخص کو یہ پتہ ہو کہ حکومت اسے سزا نہیں دے گی تو وہ اس گستاخ کو قتل کردے تو اس قتل کرنے والے کو قتل کے جرم میں سزائے موت یا قصاص کی سزا نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس نے ایک واجب القتل شخص کو قتل کیا ہے اس لئے اسے سزائے موت نہیں دی جاسکتی۔
مفتی صاحب کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کسی گستاخ کو قتل کرے تو بھی اس نے ایک واجب القتل شخص کو انجام تک پہنچایا ہے اس لئے اس کی سزا بھی موت یا قصاص نہیں ہوگی کیونکہ اس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ایک واجب القتل شخص کو مارا ہے۔
واضح رہے کہ ممتاز قادری شہید نے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سلمان تاثیر کو قتل کیا تھا جن کی مفتی تقی کے اس فتوے کی روشنی میں سزائے موت غیر قانونی اور غیر اسلامی قرار پائی ہے، واضح رہے کہ مفتی تقی عثمانی جج بھی رہ چکے ہیں اور قانون سے مکمل واقفیت رکھتے ہیں اور دیوبند مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…