شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز امریکا کی قیادت میں عالمی اتحادی فوج کے طیاروں کی بمباری اور کرد جنگجوؤں کے حملوں میں کم سے کم 45 داعشی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں
ادھر شام اور ترکی کی سرحدی پر کرد اکثریتی علاقوں میں لڑائی کے دوران کرد عسکریت پسند گروپ ’’حمایۃ الشعب یونٹ‘‘ کے بیس جنگجو مارے گئے۔آخری اطلاعات کے مطابق فضائی حملے اور لڑائی جاری ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ’’ہیومن رائیٹس آبزرویٹری‘‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے کے روز اتحادی ممالک کے طیاروں نے شام اور ترکی کی سرحد کے قریب تل ابیض کے مقام پر داعش کے ٹھکانوں پر 10 فضائی حملے کیے جن میں درجنوں داعشی شدت پسند ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
کرد عسکریت پسند گروپ کے ترجمان ریدور خلیل اور ترک سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کے روز حمایۃ الشعب کے زیرکنٹرول تل ابیض اور سلوک قصبوں میں داعش نے حملہ کیا تاہم جوابی کارروائی میں داعش کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کرد فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے داعشی شدت پسندوں کا محاصرہ کرنے کے بعد انہیں گھیر کر ہلاک کر دیا۔
خیال رہے کہ تل ابیض اور دیگرعلاقوں پر کردوں نے گذشتہ برس داعش کے خلاف شدید لڑائی کے بعد کنٹرول حاصل کیا تھا۔ اس لڑائی میں کردوں کو امریکا کی معاونت بھی حاصل تھی۔
ترک سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شام کے علاقے تل ابیض اور قلعہ اقجہ کے آس پاس لڑائی ہفتے کے روز علی الصباح شروع ہوئی۔ اس دوران زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دی جاتی رہی ہیں۔
ذرائع نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ قلعہ اقجہ کے مقام پر مبینہ طور پرامریکی طیاروں نے بمباری کی، جس کے نتیجے میں درجنوں داعشی جنگجو ہلاک ہو گئے۔ لڑائی کے دوران ترک سیکیورٹی فورسز نے سرحد پر گشت بڑھا دیا تھا۔
کردوں کے ترجمان خلیل نے بتایا کہ بعض حملہ آور ہفتے کے روز ترکی کی سرحد سے ان کے علاقے میں داخل ہوئے اور حملہ کر دیا۔ انہوں الزام عاید کیا کہ ترکی داعش کو کردوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ان کی مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ جنگجو جنوبی تل ابیض کی سمت سے داخل ہونے کی کوشش کے دوران مارے گئے۔
العربیہ ڈٹ نیٹ، ایجنسیاں