Israeli police officers take positions on the roof of al-Aqsa mosque during clashes with Palestinians in Jerusalem's Old City September 28, 2015. REUTERS/Amir Cohen
فلسطینی سماجی کارکنوں اور اسلامی تاریخی آثار کی حفاظت کرنےوالے ماہرین نے انکشاف کیاہے کہ فلسطین میں سنہ 1948 ء میں قیام اسرائیل کے بعد ملک میں سیکڑوں مساجد کو بند کرنے کے بعد انہیں شراب خانوں، ہوٹلوں اور یہودی آباد کاروں کے گھروں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقامی فلسطینی سماجی کارکن اور بیت المقدس کی تاریخ کے مورخ روبین ابو شمیسہ کا کہنا ہے کہ بیت المقدس میں بند کی گئی مساجد میں حارہ الشرف کے مقام پر واقع دو مسجدوں مسجد العمری اور ایک دوسرے مسجد بھی شامل ہے جن پر سنہ 1967 ء کی جنگ میں قبضہ کرنے کے بعد انہیں بند کردیا گیا تھا۔
ابو شمیسہ نے بتایا کہ حارہ الشرف میں واقع دو مسجدوں العمری الکبیر کو سنہ 1980 ء میں بند کیا گیا جس کے بعد اسے یہودیوں کے ثقافتی مرکز میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ اس مسجد کے دروبام آج تک اذان اور نماز سے محروم ہیں۔
فلسطینی مورخ نے بتایا کہ فلسطین میں قیام اسرائیل کے بعد صہیونی ریاست اب تک سیکڑوں مساجد کو بند کرنے کے بعد انہیں مہ خانوں، ہوٹلوں، ثقافتی مراکز اور گھروں میں تبدیل کرچکی ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…