ممتاز سنی عالم دین نے ایران میں پارلمانی انتخابات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تمام امیدواروں اور ان کے حامیوں کو نصیحت کی اسلامی اخلاق کا خیال رکھیں۔
انیس فروری دوہزار سولہ (دس جمادی الاولی) میں زاہدان کے خطبہ جمعہ کے ایک حصے میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے انتخابی مہم کے آغاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مجلس شورا اور مجلس خبرگان کے انتخابات انتہائی اہم ہیں۔ دنیا میں مختلف ادارے ہمارے انتخابات اور انتخابی عمل کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔ لہذا ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے اور جوش و جذبے کے ساتھ انتخابات میں حصہ لینا چاہیے۔
انہوں نے مزیدکہا: چونکہ انتخابات میں متعدد امیدوار حصہ لے رہے ہیں اور ان کے حامی بھی ہیں، لہذا سب کو چوکس رہنا چاہیے اور سختی کے ساتھ جھوٹ اور الزام تراشی سے پرہیز کریں۔ دوسرے فریق کی توہین اور انہیں حقیر سمجھنا انتہائی غلط اقدام ہے۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بطور خاص دیکھا جاتاہے کہ کچھ لوگ الزام تراشی سے کام لیتے ہیں؛ انہیں خدا اور آخرت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ جھوٹ بولنا اللہ تعالی کی ناراضی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے سچائی پر زور دیتے ہوئے کہا: امانت اور دیانت کا دامن مضبوطی سے تھام لیں اور اپنا ووٹ دیانتداری سے استعمال کریں۔ دیانتداری اور سچائی اسلامی اخلاق میں سب سے اہم اقدار میں شمار ہوتی ہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا: ہمیں اپنا حق رائے دہی احتیاط اور امانتداری سے استعمال کرنا چاہیے۔ سب کی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ بہترین، باصلاحیت اور تجربہ کار امیدواروں کو ووٹ دیں جو عوام کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواتین کو بھی بطور خاص انتخابات میں اپنا ووٹ استعمال کرنے کا موقع دیا جائے اور انہیں پولنگ سٹیشنز پہنچایاجائے۔