فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی ایک دس سالہ بچی مصر اوراسرائیل کی جانب سے بیرون ملک علاج کے لیے لے جانے کی اجازت نہ ملنے پرجاں بر نہ ہوسکی اور دم توڑ گئی۔ دوسری جانب گرے فیل ہونے کے باعث فوت ہونے والی بچی مرح ابو دیاب کے اہل خانہ نے اسرائیل کو بچی کی ہلاکت کا ذمہ دار قراردیا ہے۔
مرح دیاب کے والد عبدالحلیم دیاب نے ’’مرکزاطلاعات فلسطین‘‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بچی گذشتہ چھ سال سے گردوں کی بیماری کا شکار تھی۔ گردے فیل ہونے کے باعث وہ شدید تکلیف میں مبتلا تھی۔ انہوں نے رفح گذرگاہ کے راستے بچی کو مصر لے جانے کی کوشش کی مگر مصری فوج نے انہیں روک دیا۔ اس کے بعد انہوں نے سنہ 1948 ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسے لے جانے کی بار ہا کوشش کی مگر اسرائیلی فوج کی جانب سے انہیں نہایت ظالمانہ طریقے سے واپس کردیا جاتا رہا جس کے نتیجے میں کل بدھ کے روز اس کی دس سالہ بچی نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔
گردوں کی بیماری سے فوت ہونے والی بچی کے والد نے اپنی بچی کی موت کا ذمہ دار جہاں اسرائیل کو ٹھہرایا وہیں فلسطینی اتھارٹی کے وزیرصحت جواد عواد اور بیرون ملک علاج کے شعبے کی خاتون نگران امیرہ الھندی کو بھی قصور وار قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے کئی بار فلسطینی حکام سے بھی بچی کو علاج کے لیے کسی اچھے اسپتال میں داخل کرانے کے لیے سفری سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا مگر ان کی درخواست ہربار مسترد کردی گئی۔
عبدالحلیم دیاب نے کہاکہ اس ک بچی غزہ کی ناکہ بندی کے باعث نہیں بلکہ فلسطینی اتھارٹی کے وزیرصحت کی کھلم کھلا لاپرواہی کے نتیجے میں شہید ہوئی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین