U.N. mediator for Syria Staffan de Mistura attends a news conference at the United Nations in Geneva, Switzerland January 25, 2016. REUTERS/Denis Balibouse - RTX23WZC
شام کے متحارب دھڑوں کے درمیان امن مذاکرات آیندہ جمعہ کو جنیوا میں شروع ہوں گے اور یہ چھے ماہ تک جاری رہیں گے۔
اس بات کا اعلان اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے سوموار کے روز جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس میں کیا ہے۔یہ مذاکرات آج شروع ہونے والے تھے مگر ڈی مستورا نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان میں شرکت کے لیے متحارب فریق اپنے اپنے وفود تشکیل نہیں دے سکے ہیں جس کی وجہ سے بات چیت کے انعقاد میں بھی تاخیر کردی گئی ہے۔
انھوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ مذاکرات کے شرکاء کو منگل کے روز دعوت نامے بھیج دیے جائیں گے۔انھوں نے بتایا ہے کہ 29 جنوری کو شروع ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور دو سے تین ہفتے تک جاری رہے گا۔اقوام متحدہ کے ایلچی نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے آغاز پر کوئی افتتاحی تقریب منعقد نہیں ہوگی۔
ڈی مستورا کا کہنا تھا کہ ”شام میں جنگ بندی اور مصائب کا شکار شامیوں تک انسانی امداد بہم پہنچانے پر اتفاق بات چیت میں اولین ترجیح ہوگی۔ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے سخت کوششوں کا وقت آگیا ہے”۔
واضح رہے کہ شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان جنوری 2014ء کے بعد یہ پہلے مذاکرات ہوں گے۔تب ڈی مستورا کے پیش رو اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی برائے شام الاخضر براہیمی کی میزبانی میں سوئس شہروں جنیوا اور مونٹریوکس میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے لیکن جنیوا دوم کے نام سے معروف یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے تھے۔
العربیہ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان