شام کے مشرقی شہر دیر_الزور میں جمعہ کے روز شامی فوج اور اس کی حامی روسی فوج کے جنگی طیاروں نے وحشیانہ بمباری کرکے 13 بچوں سمیت 30 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔
انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے’’آبزرویٹری برائے انسانی حقوق‘‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ جمعہ کو شامی فوج اور اس کے حلیف روسی فوج کے جنگی طیاروں نے دیر الزور گورنری میں وحشیانہ بمباری کی جس کے نتیجے میں تیرہ بچوں سمیت کم سے کم تیس عام شہری مارے گئے۔
خیال رہے کہ مشرقی شام کے دیر الزور گورنری میں کچھ علاقوں اور اس کے مضافات پر شدت پسند گروپ دولت اسلامی ’’#داعش‘‘ کا قبضہ ہے جب کہ گورنری کے مرکزی علاقے سمیت نصف کے قریب علاقہ شامی فوج کے کنٹرول میں ہے۔
دیر الزور کے علاقوں میں شامی فوج حالیہ ایام میں وسیع پیمانے پر حملے کرتی رہی ہے جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ ایک ہفتہ قبل اس علاقے میں داعش اور شامی فوج کے درمیان لڑائی کے دوران داعش نے 130 عام شہریوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔
آبزرویٹری کی رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک ہفتے کے سےجاری لڑائی میں دیر الزور میں 439 افراد مارےجا چکےہیں۔ ان میں بیشتر عام شہری شامل ہیں۔ جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…