استنبول کے بعد ترکی کے صوبے دیار باقر میں بھی بم دھماکے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 39 افراد زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ نے ترک میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ کرد جماعت کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے باغیوں نے بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرادی اور پھر اسے راکٹوں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 39 افراد زخمی ہوئے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی اناطولیہ کے مطابق حملے میں دیار باقر کے سینار ٹاؤن کے پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جس سے پولیس اسٹیشن کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
’اے ایف پی‘ نے ڈوگن نیوز ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کار بم دھماکے اور راکٹ حملوں سے پولیس اسٹیشن کے ساتھ واقع اہلکاروں کے گھروں کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ترکی کے ایک اور صوبے ماردین کے مدیت ٹاؤن میں بھی پولیس اسٹیشن پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا، تاہم وہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ دیار باقر میں گزشتہ سال دسمبر سے کُرد باغیوں کے خلاف فورسز کا آپریشن بھی جاری ہے۔
کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) ترکی کی کالعدم جماعت ہے جو کہ 1984 سے آزاد کردستان کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ دو روز قبل بھی ترکی کے شہر استنبول کے مرکزی سیاحتی مقام سلطان احمد اسکوائر پر بھی دھماکے کے نتیجے میں 9 جرمن شہریوں سمیت 10 افراد ہلاک جبکہ 15 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
ترکی کے سرکاری ٹیلی ویژن ٹی آر ٹی کے مطابق دھماکا خودکش تھا تاہم حکام کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
ڈان نیوز