اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت مولانا عبدالحمید نے تہران میں ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالم اسلام کے حالات کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے کہا: مسلم حکومتوں کے اتحاد کے بغیر قوموںکے اتحاد مشکل ہے۔ اتحاد و یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ایرانی اہل سنت کی آفیشل ویب سائٹ، سنی آن لائن، کے نامہ نگار کے مطابق مولانا عبدالحمید نے سترہ ربیع الاول چودہ سو سئنتیس (انتیس دسمبر دوہزار پندرہ) کی شام کو ستر ملکوں سے آنے والے مہمانوں سمیت متعدد اعلی ایرانی حکام و دانشوروں سے خطاب کے دوران کہا: ہم ایک ایسے وقت میں اتحاد کانفرنس منعقد کررہے ہیں جب عالم اسلام افراتفری اور خطرناک چیلنجوں اور بحرانوں سے دوچار ہے۔ عالمی سامراجی قوتوں اور قابض صہیونی تحریک کی سازشیں مسلمانوں کے خلاف عملی شکل اختیار کررہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: افسوس کا مقام ہے مختلف مسلم ممالک میں فرقہ واریت اور چپقلش پائی جاتی ہے۔ بے رحم سامراجی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر مسلمانوں کو مختلف ٹولوں اور گروہوں میں تقسیم کرنے میں کامیاب ہوچکی ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے اتحاد و یکجہتی، مذاکرہ و مکالمہ اور فراخدلی سے اپنے مسائل پر قابو پائیں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں باہمی اتحاد کے ساتھ آگے بڑھ گئیں، وہ دنیا میں کامیاب ہوئیں اور بڑی فتح حاصل کرگئیں۔مہذب اور سمجھدار قومیں ایک دوسرے سے متحد رہتی ہیں۔ ہر زمانے میں اختلاف سے مسلمانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کی واضح ترین مثال صدر اسلام میں رونما ہونے والے اختلافات ہیں جن کے باعث مسلمان مختلف فرقوں اور مذاہب میں بٹ گئے اور اب تک وہ اختلافات موجود ہیں۔
اہل سنت ایران کے ممتاز عالم دین نے یاددہانی کرتے ہوئے کہا: موجودہ حالات میں علمائے کرام اور مسلم حکومتوں کی ذمہ داری بہت سنگین ہے۔ ایسی کانفرنسز کا انعقاد مثبت اور اچھا اقدام ہے، لیکن ہمارے خیال میں مسلم حکام کو چاہیے اتحاد اور مکالمے کی خاطر مذاکرات کا دروازہ کھولیں۔
انہوں نے مزید کہا: مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا عالم اسلام کی شدید ضرورت ہے۔ حکومتوں کے اختلافات کے اثرات طبعی طور پر قوموں پڑجاتے ہیں۔ جب تک حکومتیں متحد نہ ہوں، اس وقت تک قوموں کا اتحاد مشکل نظر آتاہے۔
مولانا عبدالحمید نے اہل سنت ایران کی نمایندگی کرتے ہوئے کہا: اپنے ملک کے حکام سمیت جو مہمانان گرامی اس کانفرنس میں شریک ہیں، ان سب پر واضح کرتاہوں ایران کی سنی برادری ہر قسم کی انتہاپسندی اور تکفیر سے بیزار ہے اور شدت پسندی کی مخالفت کرتی ہے۔ ہم نے تمام تر مسائل کے باوجود، ملکی اتحاد اور امن کی مدد کی ہے۔ ایرانی اہل سنت اچھے اور دیانتدار شہری ہیں جو اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: اتحاد بہت اہم ہے۔ ہم اہل تشیع پڑوسیوں سے چاہتے ہیں ہمیں اپنا حلیف سمجھیں حریف اور مخالف نہیں۔ ہم ایک دوسرے کے دوست ہیں جو پرامن انداز میں ساتھ رہتے ہیں۔ ایرانی حکام کا شکریہ ادا کرتاہوں جو اہل سنت پر توجہ دیتے ہیں، میری نصیحت یہی ہے کہ مزید ان کا خیال رکھیںاور ان کے حقوق پر توجہ دیں۔ آپ کے سنی بھائی ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے ہیں اور مسائل و مشکلات جھیلتے رہے ہیں۔
رابطہ عالم اسلامی کی سپریم کونسل کے رکن نے مسلم حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: تمام مسلم حکمرانوں کو میری نصیحت یہی ہے کہ اپنی مذہبی و قومی اقلیتوں کے مطالبات پر توجہ دیں اور ان کے حقوق کا خیال رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا: وسطی ایشیا کے حکمرانوں سمیت دیگر حکام کو چاہیے اپنے ملکوں میں اسلام پسندوں پر سختی نہ کریں۔ دنیا میں انتہاپسندی پھیلنے کی ایک وجہ بعض آمر حکمرانوں کا دباو اور اسلام پسندوں پر ظلم و ستم روا رکھنا ہے۔ ہوسکتاہے بعض لوگ اس دباو کو برداشت کریں، لیکن بعض گروہ جو دباو کی وجہ سے نظرانداز ہوتے ہیں وہ تکفیر اور انتہاپسندی کی جانب راغب ہوسکتے ہیں۔ لہذا وسطی ایشیا میں اسلام پسندوں کو آزادی ملنی چاہیے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران سے بھی درخواست ہے جس طرح فلسطینی مسلمانوں سمیت بعض دیگر مسلمانوں کی حمایت کی جاتی ہے، اسی طرح جو ممالک اسلام پسندوں پر دباو ڈالتے ہیں، انہیں ایسا نہ کرنے کی نصیحت کرے۔
یاد رہے مولانا کے خطاب کے بعد ہال میں موجود سینکڑوں دانشوروں اور علمائے کرام نے اپنی کرسیوں سے اٹھ کر تالیاں بجاتے ہوئے ان کی تائید کی۔