ممتاز عالم دین مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں ستائیس نومبر دوہزار پندرہ کو اجتماع برائے نمازجمعہ سے خطاب کرتے ہوئے صوبہ سیستان بلوچستان میں بعض بدامنی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا عوام امن چاہتے ہیں۔
’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق، خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: امن ایک اہم مسئلہ ہے۔ اب پوری دنیا پر بدامنی کے بادل چھاگئے ہیں۔ لیکن اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ہمارے صوبے اور ملک میں امن قائم ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: ایران کے دشمنوں کی کوشش ہے ایران میں فرقہ واریت اور بدامنی کا راج ہو۔ اپنے مفادات حاصل کرنے کی خاطر بعض طاقتیں یہاں بدامنی پھیلانا چاہتی ہیں۔ ہرقسم کی بدامنی پیدا کرنا ایران کا نقصان ہے اور اس کے دشمنوں کے مفادات کے عین مطابق ہے۔ عالمی سامراج اور قابض صہیونی ریاست فرقہ واریت اور بدامنی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لہذا سب کو چوکس رہنا چاہیے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: حال ہی میں ہمیں بعض رپورٹس ملی ہیں کہ بعض علاقوں میں بدامنی پھیلائی جارہی ہے اور سڑکوں پر بم نصب کیے گئے ہیں۔ اس سے ہمیں سخت تشویش ہوئی ہے۔ ہم کھلا اعلان کرتے ہیں ہمارے عوام کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا: الحمدللہ ہمارے صوبے میں مفاہمت کی فضا قائم ہے۔ دوراندیش اور عوام کے فلاح و بہبود چاہنے والے حکمران صوبے میں خدمت کررہے ہیں۔ شیعہ وسنی برادریوں میں پہلے سے زیادہ بھائی چارہ پایاجاتاہے۔ اس بھائی چارہ کا فائدہ عوام کو ملنا چاہیے جو مشکلات سے نجات چاہتے ہیں۔ لہذا موجودہ امن کی فضا کسی بھی صورت میں مکدر نہیں ہونی چاہیے۔
اہل سنت ایران کی بااثر دینی شخصیت نے زور دیتے ہوئے کہا: سیستان بلوچستان کے تمام لوگوں سے میری درخواست ہے یہاں کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہ دیں۔ نیز جو عناصر اغیار کے ذریعے اشتعال دلائے گئے ہیں اور ان کی خاطر بدامنی پھیلارہے ہیں، وہ بھی یاد رکھیں ان کی سرگرمیاں عوام اور صوبے کے مفادات کے سراسر خلاف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: بلاشبہ یہاں کے شیعہ وسنی عوام کے بعض مسائل و مشکلات ہیں، لیکن کوئی بھی عالم دین، تعلیم یافتہ، قبائلی عمائد اور عام شہری بدامنی پر رضامند نہیں ہے۔ ان سب کا خیال ہے کہ پرامن اور قانونی طریقوں سے مسائل کا حل نکالیں۔
اپنے خطاب کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے ایران میں ’ہفتہ بسیج‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: بسیج ایک عوامی فورس ہے جس کے لیے مناسب یہی ہے کہ عوام اور قوم کی خدمت میں لگارہے اور ترقی و امن کے سلسلے میں سرگرم رہے۔