امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ پچھلے ایک مہینے سے شام میں روسی فوج کی بمباری سے جہاں سیکڑوں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں وہیں ایک لاکھ 20 ہزار شہری اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ روسی فوج کے 85 سے 90 فی صد فضائی حملوں میں اعتدال پسند عسکری قوتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی وزیرخارجہ کی معاون خصوصی برائے مشرق وسطیٰ این ڈبلیو پیٹرسن نے کانگریس کی خارجہ کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام میں سمتبر کے آخر سے جاری روسی فوج کے حملوں میں اب تک ایک لاکھ بیس ہزار باشندے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روسی فوج کے جنگی جہازوں نے حماۃ، حلب اور ادلب جیسے شہروں میں اعتدال پسند اپوزیشن کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے اور انہی شہروں سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید