- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

امریکا و روس دونوں متکبر اور جرائم پیشہ ہیں

ایرانی اہل سنت کے ممتاز عالم دین نے شام میں امریکی و روسی مداخلت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تمام طاقتوں کو متکبر، من پسند اور جرائم پیشہ قرار دیا۔
زاہدان میں نو اکتوبر دوہزار پندرہ کے خطبہ جمعہ میں خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے عالم اسلام کے حالات کو ’مایوس کن‘ یاد کرتے ہوئے کہا: عالم اسلام میں موجود مسائل و آفتوں کو اگر مدنظر رکھا جائے کوئی تو امید نظر نہیں آرہی ہے کہ تمام حکام ساتھ بیٹھ کر مسلم ممالک کے مسائل و بحرانوں کے خاتمے کے لیے کوئی فارمولا یا قابل قبول راہ حل پیش کریں۔
انہوں نے مزیدکہا: البتہ ہر صورت میں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عالم اسلام کی بحرانوں اور مسائل سے نجات صرف مذاکرہ و باہمی گفت وشنید میں ہے؛ تمام تر اختلافات کے باوجود حکام، دانشوروں اور اصحاب حل و عقد کو مل بیٹھ کر اپنے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔

عالمی طاقتیں مسلمانوں کے مسائل حل نہیں کرنا چاہتیں
عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے زور دیتے ہوئے کہا: بلاشبہ عسکری حملوں اور اجنبی طاقتوں کی دخل اندازی سے مسلم ممالک کے مسائل حل نہیں ہوسکتے، بلکہ ایسے فضائی و عسکری حملوں سے صرف تباہی پھیل جاتی ہے اور خطے میں اختلافات بڑھ جاتے ہیں۔ امریکا و روس سمیت دیگر متکبر و جابر طاقتیں ہرگز عالم اسلام کے خیرخواہ نہیں ہیں اور وہ خطے کے مفادات کی خاطر نہیں لڑتی ہیں۔ اگر یہ واقعی انسانیت کے خیرخواہ ہوتے، ان کی صلاحیتوں سے مشرق وسطی کے مسائل کا حل خارج نہیں تھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: اگر اقوام متحدہ میں کوئی صحیح سوچ ہوتی تو وہ ضرور مسائل کا مناسب حل تلاش کرتے اور قومی حکومتیں تشکیل دینے سے سیاسی بحرانوں کا خاتمہ کرلیتے، لیکن افسوس کا مقام ہے اقوام متحدہ اور سامراجی طاقتیں عالم اسلام کے مسائل حل کرنے میں مخلص نہیں ہیں اور وہ صرف اپنے مفادات یقینی بنانا چاہتی ہیں، اس راہ میں لاکھوں افراد ہلاک بھی ہوجائیں تو انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انتہائی المناک ہے بہت سارے نہتے مسلمان بمباری اور جھڑپوں کے نتیجے میں قتل عام ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوتے ہیں۔
اپنے خطاب کے اس حصے کے آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی مسلمان قومیں اور حکام دوراندیشی اور عفو کامظاہرہ کریں اور کسی جماعتی، قومی، مذہبی اور گروہی مفاد کو خاطر میں لائے بغیر تمام مسلمانوں اور اسلام کے مفادات کو ترجیح دیں۔

ترقی کی بنیاد تعلیم پرہے
اپنے خطاب کے ایک حصے میں مولانا عبدالحمید نے وزارت تعلیم و تربیت کے صوبائی ڈائریکٹر کی موجودی اور خطاب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: تعلیم کے شعبے میں سرگرم افراد کی ذمہ داریاں بہت سنگین اور اہم ہیں۔ ترقی و پیش رفت کی بنیاد تعلیم پر ہے۔ شاید تعلیم سے بڑھ کر کوئی بڑا مسئلہ ملک اور صوبہ میں نہ پایا جاتا ہو۔ جس معاشرے میں تعلیم نہ ہو، وہاں کچھ بھی نہیں ہے۔

صدر دارالعلوم زاہدان نے صوبہ سیستان بلوچستان میں شعبہ تعلیم کے مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمارے صوبے میں تعلیم کے مسائل دیگر علاقوں سے بڑھ کر ہیں؛ آبادی کی پراکندگی، کم شرح خواندگی اور بڑی تعداد میں تعلیم ادھوری چھوڑنے والے بچے اس صوبے کے اہم مسائل ہیں۔ اس سلسلے میں شعبہ تعلیم کی ذمہ داریاں بہت سنگین ہوجاتی ہیں۔

فقہ اہل سنت کو سرکاری سکولوں میں پڑھانی چاہیے
بات آگے بڑھاتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے سنی اکثریت علاقوں میں فقہ اہل سنت کی تدریس پر زور دیتے ہوئے کہا: آئین کی رو سے اور اتحاد کے اصولوں کے مطابق سکولوں میں شیعہ وسنی دونوں کی فقہ پڑھانی چاہیے تاکہ ہر طالب علم اپنے مذہب اور فقہ سے آشنا ہوجائے۔
انہوں نے کہا: کچھ رپورٹس ہمیں ملی ہیں کہ سرکاری سکولوں میں فقہ اہل سنت اور ان کے بنیادی عقائد کی تدریس میںلاپرواہی و سستی کا مظاہرہ کیا جارہاہے۔ بعض سکولوں میں فقہ حنفی پڑھائی جاتی ہے لیکن اساتذہ اہل سنت نہیں ہیں اور اِس کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ میرے خیال میں اہل تشیع کی فقہ کو شیعہ اساتذہ پڑھائیں اور اہل سنت کی فقہ کو سنی اساتذہ پڑھائیں۔ شعبہ تعلیم کو فقہ اہل سنت پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ ہمارے بچوں کا بنیادی حق ہے کہ اپنے دینی احکام و مسائل سے واقفیت حاصل کریں۔
دارالعلوم زاہدان کے استاذالحدیث نے مزیدکہا: بعض سکولوں کے ذمہ داراں اپنے اساتذہ کو ترغیب دیتے ہیں امتحانات میں طلبہ کو اپنی جانب سے نمبر دیں جو انصاف کے خلاف ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے مقبول طلبا کی فیصد زیادہ سے زیادہ ہو۔ یہ تقوا اور شرعی اصول کے خلاف ہے۔
اپنے خطاب کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے حج سے واپس آنے والے حجاج کرام کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کے حج کی مقبولیت کے لیے دعا کی۔