چابہار (سنی آن لائن) اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت مولانا عبدالحمید نے ایرانی حکام پر واضح کیاہے صوبہ سیستان بلوچستان کے مقامی باشندوں کو روزگار فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
مولانا عبدالحمید دس ستمبر دوہزار پندرہ کو ایرانی بلوچستان کے ساحلی شہر چابہار میں دو میگا منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بے روزگاری کے خاتمے کو امن یقینی بنانے میں موثر قرار دیا۔
انہوں نے پیٹروکیمیکل پلانٹ کے ضمنی اثرات کم کرنے پرزور دیتے ہوئے کہا: بعض اوقات اللہ تعالی کی رحمتوں کے ساتھ ساتھ کچھ زحمتیں بھی اٹھانی پڑتی ہے؛ مثلا بارش کے ساتھ جو رحمت اور سرسبزی کا باعث ہے بعض اوقات سیلاب بھی آتی ہے۔ مذکورہ میگا پروجیکٹس کے بھی بعض ضمنی اثرات ہوسکتے ہیں، لہذا متعلقہ حکام سائیڈ ایفکٹس زیادہ سے زیادہ کم کرنے کی کوشش کریں۔
یاد رہے چابہار بندرگاہ کے قریب چوبیس ارب ڈالر کی لاگت سے پیٹروکیمیکل پلانٹ اور اسٹیل مل قائم ہوجائے گا جس سے چوبیس ہزار افراد کو روزگار کی فراہمی ممکن ہوگی۔
مذکورہ پروجیکٹس کے سنگ بنیاد رکھنے کے لیے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کے علاوہ ایران کے وزیر دفاع، وزیر صنعت، گورنر سیستان بلوچستان اور بعض دیگر اعلی صوبائی و وفاقی حکام افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔
اس پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: سیستان بلوچستان کے عوام شکرگزار لوگ ہیں۔ اگر کوئی ان کی بھلائی و ترقی کے لیے محنت کرے، ہرگز ناقدری نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزیدکہا: ہمارے صوبہ کے اہم مسائل میں ایک بے روزگاری ہے؛ ہزاروں نوجوان اور تعلیم یافتہ شہری روزگار سے محروم ہیں۔ ہمیں امید ہے ایسے منصوبوں میں انہیں مناسب روزگار فراہم ہو۔
اپنے خطاب کے ایک حصے میں مولانا عبدالحمید نے معیشت کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبہ پر بھی توجہ دینے کی اہمیت واضح کردی۔ انہوں نے کہا کوشش کرنی چاہیے شرح ناخواندگی صوبے میں کم سے کم ہوجائے اور تعلیمی اداروں کو معیاری بنایاجائے۔ تعلیم عام ہونے سے صوبے کے امن اور استحکام کو بھی تقویت ملے گی۔ یہ عوام اور حکام دونوں کے مفاد میں ہے۔