- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

غیرجانبداری اورتمام گروہوں کی مشارکت سے ملک محفوظ رہے گا

اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت نے اٹھائیس اگست (تیرہ ذوالقعدہ چودہ سو چھتیس) کے خطبہ جمعہ میں حکام کی غیرجانبداری اور قوم کی تمام اکائیوں کی سیاسی و معاشرتی شرکت کو ملک میں پائیدار امن اور اتحاد کے لیے ضروری قرار دیا۔
’ہفتہ حکومت‘ کے موقع پر صدر روحانی کے مشیر خاص کی موجودی میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: موجودہ حکومت کی سب سے بڑی کامیابی جوہری معاہدہ ہے جو نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر اس کے مثبت اثرات نکلیں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ معاہدہ جنگ اور لڑائی کے بغیر مذاکرات و بات چیت کے ذریعے حاصل ہوگیا۔
انہوں نے مزیدکہا: مذاکرات اور بات چیت عقلمندی و سمجھداری کی نشانی ہے۔ سلیم العقل شخص تشدد اور لڑائی کی تردید کرتا ہے مگر بعض خاص جگہوں پر جس کی اجازت ہے۔ مذاکرات سب سے بہترین طریقہ ہے تاکہ لوگ تشدد کے بغیر مسائل کا حل نکالیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: یہ ماننا پڑے گا ’تدبیر و امید‘ کی حکومت قائم ہونے کے بعد ملک کی عمومی فضا میں بھائی چارہ و اتحاد کو فروغ ملا ہے اور اب ملک میں امن و سکون کا ماحول ہے۔ قومیتوں اور مسالک کے درمیان بھائی چارہ کو تقویت ملی ہے۔
ممتاز سنی عالم دین نے صدر مملکت کے تمام انتخابی وعدوں کی تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا: جس طرح جوہری مسئلے کا حل نکالا گیا، صدر مملکت نے آئین کے مکمل نفاذ اور معاشرتی، سیاسی اور مذہبی آزادیوں کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا، اب انہیں جامہ عمل پہنانا چاہیے۔
مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے تاکید کی: ایران کا تعلق کسی مخصوص گروہ، جماعت یا مسلک سے نہیں، یہ پوری قوم کا وطن ہے۔ لہذا تمام اقوام اور مسالک کو ملک کی ادارت اور حکومت میں شریک بنانا چاہیے۔ فیصلہ کرنے والے محکموں اور اعلی مناصب کی حد تک ان کی خدمات لینی چاہیے۔ اسی سے قومی امن اور اتحاد کو تقویت ملتی ہے۔ جب اعلی حکام کی نگاہیں غیرجانبدارانہ ہوں گی تو پائیدار امن و اتحاد کی راہ ہموارہوگی بلکہ مختلف میدانوں میں ہماری اثرگذاری یقینی ہوجائے گی۔
مولانا عبدالحمید نے عسکری طریقہ کار کو امن قائم کرنے میں ناکارآمد قرار کرتے ہوئے کہا: میرے خیال میں ہتھیار اور عسکری قوت کے بل بوتے امن قائم نہیں ہوتا اور اس سے ریاست کی حفاظت نہیں ہوسکتی۔ بہت سارے ممالک اپنی عسکری قوت اور آہنی ہاتھ پر بھروسہ کیا کرتے تھے لیکن جب عوام کے جائز مطالبات کو نظرانداز کیا گیا تو انہیں مسائل کا سامناہوا اور تباہ وبرباد ہوئے۔ لہذا عوام پر اعتماد کرکے غیرجانبداری سے پوری قوم کی تمام اکائیوں کے قانونی مطالبات پر توجہ کرنی چاہیے۔ اسی سے قومی اتحاد حاصل ہوگا۔

پونک نمازخانے کو بحال کیاجائے
خطیب اہل سنت زاہدان نے تہران میں اہل سنت کے مرکزی نمازخانے کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا: ہمارے عوام کا ایک مطالبہ تہران میں مسمارشدہ نمازخانے کی بحالی ہے جو حال ہی میں مسمار ہوا۔ مجھے یقین ہے مرشداعلی، صدر مملکت اور دیگر اعلی حکام اس مسئلے پر رضامند نہ تھے، جن عناصر سے یہ حرکت سرزد ہوئی ہے یقیناً وہ دوراندیش نہیں ہیں جنہوں نے اسلامی و وطنی بھائی چارے کا خیال نہیں رکھا۔
انہوں نے مزیدکہا: صدرمملکت کے محترم مشیر سے درخواست ہے کہ ہمارے عوام کے اس مطالبے کو اعلی حکام تک پہنچائیں۔ پونک نمازخانے کو بحال کرنا چاہیے۔ ہم حکام کو یقین دلاتے ہیں اس نمازخانے میں اللہ کی بندگی کے سوا کوئی غیرقانونی سرگرمی نہ تھی۔ امید کی جاتی ہے حکام و متعلقہ ذمہ داروں کی تدبیر و کوشش سے یہ مسئلہ جلدازجلد حل ہوجائے تاکہ اللہ کے بندے آسانی سے اس کی عبادت و بندگی کرسکیں۔