ایک دن نیٹ پر اخباربینی کرتے کرتے میری ناقص نظر ایک ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی کی اردو ویب سائٹ پر پڑگئی۔ سائٹ اوپر نیچے کیا تو کچھ سرخیاں عجیب سی لگیں، مثلا: کوئٹہ میں 400 وہابی دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیئے، پنجاب کے وہابی مدرسوں میں سرچ آپریشن 20 دہشت گرد گرفتار، وزیرستان میں 65 وہابی دہشت گرد ہلاک، کراچی میں 4 وہابی دہشت گرد ہلاک و۔۔۔
سب سے پہلے انگریز سامراجیوں نے برصغیر میں اپنے سیاسی مخالفین کے لیے یہی لقب مناسب سمجھا اور اپنے زعم میں اس طرح عوام کی نظروں میں ان کی کردارکشی کی۔ ان کے بعد وہابی کی اصطلاح عام ہوتی گئی اور مسلکی اختلافات میں اس کا بھرپور استعمال ہورہاہے۔
اب یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ ’مہر نیوز‘ کی نظر میں بی ایل اے کے مشتبہ رکن بھی ’وہابی‘ ہیں اور اس کے “ذرائع” کے مطابق ”پاکستان بھر میں وہابی مدارس میں خودکش حملہ آوروں کی تربیت کی جاتی ہے“۔
اسی طرح کوئٹہ میں ہتھیار ڈالنے والے سابق عسکریت پسند جو بلوچستان کی ’آزادی‘ اور علیحدگی کے لیے لڑرہے تھے، یکدم ’وہابی دہشت گرد‘ قرار پاگئے جو انتہائی حیران کن ’انکشاف‘ ہے۔ اگر مذہبی گروہوں اور حلقوں سے رکھنے والوں کو اس طرح کے القاب سے نوازا جاتا، تو کسی حد تک یہ مسئلہ قابل فہم تھا؛ لیکن محض علاقائی اور لسانی بنیادوں پر لڑنے والوں کو ’سنی‘ مسلک ہونے کی وجہ سے ’وہابی‘ کے اعزاز سے نوازنا سمجھ سے باہر ہے۔
معلوم نہیں اس طرح کے خبررساں ادارے اور ذرائع ابلاغ کب ہوش کے ناخن لیں گے اور مذہبی منافرت پھیلانے سے باز آئیں گے!
عبدالحکیم اسماعیل
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…