شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے تہران میں اہل سنت کے مسمار کیے گئے نمازخانے کی بحالی اورتعمیرِنو پر زور دیتے ہوئے اس واقعے پر مختلف شخصیات اور اداروں کے اظہار یکجہتی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق، خطیب اہل سنت زاہدان نے سات اگست دوہزار پندرہ (اکیس شوال) کے خطبہ جمعہ میں عصرِحاضر کے چیلنجز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: فرقہ واریت، انتہاپسندی اور شدت پسندی عصرِحاضر کے سب سے بڑے چیلنجز ہیں؛ مشرق وسطی اور دیگر ممالک کے مسلمان ان مصیبتوں سے دست وگریبان ہیں۔
انہوں نے ایرانی دارالحکومت تہران میں اہل سنت کے مرکزی نمازخانے کی تخریب کو ’خلاف توقع‘ قرار دیتے ہوئے کہا: پونک نمازخانے کو مسمار کرنا بالکل اہل سنت کے لیے متوقع نہیں تھا۔ گذشتہ ہفتے میں متعدد بیرونی و اندرونی شخصیات اور اداروں نے اہل سنت سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے جس پر ہم ان کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے سب اس مسئلے کے حل کے لیے اپنے طورپر کوشش کریں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: ایرانی قوم بشمول شیعہ و سنی ایرانی حکام سے مطالبہ کرتی ہے، اس مسئلے کا مستقل حل نکالیں اور اہل سنت کے اس دردسر کو دور کریں۔
انہوں نے کہا: ممکن ہے جن لوگوں نے نمازخانہ مسمار کیاہے وہ اپنے اس کام کے لیے کوئی بہانہ پیش کریں، لیکن اللہ کو گواہ پکڑ کر کہتے ہیں پونک نمازخانہ سمیت اہل سنت کی کسی بھی مسجد یا نمازخانہ میں صرف اللہ ہی کی عبادت ہوتی ہے اور اس کے سوا کوئی کام جس سے حکومت یا شیعہ برادری کو نقصان پہنچے، وہاں ہرگز انجام نہیں پاتا ۔
تہران میں اہل سنت کی ایک مسجد بھی نہیں!
تہران میں اہل سنت کی ’نو مسجد‘ کی موجودی کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا: کچھ عناصر نے افواہ پھیلائی ہے تہران میں اہل سنت کی نو مسجدیں ہیں، حالانکہ وہاں ایک مسجد بھی نہیں ہے۔ صرف کچھ نمازخانے ہیں جن میں تیس سے ایک سو تک مقتدی نماز پڑھتے ہیں۔ یہ نمازخانے بھی کرایے کے مکانات ہیں جو بعض اوقات جگہ بھی تبدیل کرتے ہیں۔ لوگ از خود ان کا کرایہ ادا کرتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: ہمیں امید ہے پونک نمازخانے کا مسئلہ جلدازجلد حل ہوجائے تاکہ تہران کے سنی باشندے، خاص کر پونک ٹاون اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے سنی شہری آسانی سے اپنے خالق کی بندگی کرسکیں۔
انہوں نے مزیدکہا: مسلمانوں میں بھائی چارہ و اتحاد بہت ہی اہم اور حیاتی ہے۔ الحمدللہ ایران کی سنی برادری بھائی چارہ پر یقین رکھتی ہے اور اتحاد کے خواہاں ہے۔ ہم ایرانی قوم کے اتحاد چاہتے ہیں اور ایران کا تمام مسلم ممالک سے اتحاد اور اچھے تعلقات رکھنے کی خواہشمند ہیں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے پونک نمازخانے کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: مذکورہ نمازخانہ کو بحال کرکے تعمیر نو کی اجازت دینی چاہیے۔ ہمیں یقین ہے اعلی حکام اس واقعے پر رضامند نہ تھے اور انہیں اس کی اطلاع نہ تھی۔ لہذا توقع ہے اعلی حکام وحضرات تنقید کے بعد ہمیں شکریہ اور دعائے خیر کا موقع دیں گے۔
انہوں نے آخر میں نمازیوں سے اپیل کی اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے اور نماز کے حوالے سے اہل سنت کی پریشانی کے خاتمے کے لیے دعا کریں۔
صحافی سچی خبریں شائع کرائیں
اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں ایران میں ’یوم صحافی‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: یوم صحافی تمام صحافیوں اور نامہ نگاروں کو مبارک ہو۔ بلاشبہ صحافیوں کا کام بہت اہم، سنجیدہ اور خطرناک ہے۔ انہیں جھوٹی خبریں اور افواہوں سے بچ کر صرف سچی خبریں شائع کرانا چاہیے۔