- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

ایران: سنی شخصیات نے تہران نمازخانے کے مسمار ہونے کی مذمت کی

زاہدان/تہران (سنی آن لائن)ایرانی دارالحکومت تہران میں اہل سنت کے مرکزی نمازخانہ حکومتی اہلکاروں کے ہاتھوں مسمارہونے کے بعد اہل سنت ایران کی متعدد دینی وسماجی شخصیات نے شدید رد عمل کا اظہار کیاہے۔

مولانا عبدالحمید: نمازخانہ کے مسمار کرنے کی وجہ مذہبی تعصب ہے
ایران کی سنی برادری کی آفیشل ویب سائٹ کے نامہ نگاروں کے مطابق، شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید، خطیب اہل سنت وصدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے واقعے کے چند گھنٹوں بعد مرشد اعلی و صدر مملکت کے نام الگ خطوط لکھتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر روحانی کے نام خط کے ایک حصے میں آیاہے: ایک معمولی اور چھوٹے نمازخانے کی تخریب اور عدم برداشت کے مظاہرے سے نہ صرف اہل سنت ایران بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ یہ کام تنگ نظر، انتہاپسند اور کوتہ فکرعناصر کی رضامندی کے لیے ہواجو اللہ کی رضامندی، قومی مفادات اور امت کے اتحاد کے سراسر خلاف ہے۔
مولانا عبدالحمید نے اس کے علاوہ ایک غیرملکی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے تفصیل کے ساتھ اس مسئلے پر اپنا موقف واضح کردیاہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ اعلی سرکاری حکام نے ہرگز ان کے خطوط کا جواب نہیں دیاہے اور مذہبی تعصب ہی کی وجہ سے اہل سنت کے نمازخانے بعض عناصر کے لیے ناقابل برداشت ہوچکے ہیں۔
نیز جمعہ اکتیس جولائی کو نمازجمعہ سے قبل نمازیوں کی بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نمازخانہ مسمار کرنے والوں کے خلاف کارروائی اور اس کی تعمیرِنو کا مطالبہ کیا۔

مولانا گورگیج: گھروں میں باجماعت نماز پڑھنا جرم نہیں ہے
دریں اثنا مولانا محمدحسین گورگیج، صدر دارالعلوم فاروقیہ گالیکش(صوبہ گلستان) نے خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہاہے: دینی مصیبت ہمارے لیے قابل برداشت نہیں ہے۔ یہ ہمارا مسلمہ اور آئینی حق ہے کہ جہاں ہمیں ضرورت ہو، ہم مسجد اور جائے عبادت تعمیر کروائیں۔ کچھ حکومتی عناصر اسلامی جمہوریہ ایران کو بدنام کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کس قانون میں لکھاہے کہ گھروں میں باجماعت نماز پڑھنا جرم ہے؟ اس اقدام سے صرف حکام کو بدنامی نصیب ہوئی مگر کسی مشکل کا حل اس سے سامنے نہیں آیا۔

مولانا محمد عثمان: حکومت پونک نمازخانے کا مسئلہ حل کرے
ایرانی بلوچستان کے شہر خاش کے خطیب اور جامعہ مدینۃ العلوم کے صدر نے اپنے خطاب میں اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کیاہے۔
مولانا محمدعثمان نے کہاہے: ایک سرکاری محکمے کے لیے ہرگز مناسب نہ تھا کہ اللہ کی عبادت اور نماز پڑھنے کے مکان کو مسمار کیا جائے۔ نمازخانوں میں کس جرم عظیم کا ارتکاب ہوتاہے کہ ان کے مسمار کرنا ضروری قرار پاتاہے؟! حکومت جلد اس مسئلے کا مناسب حل نکالے۔

مولانا عبدالرشید: اہل سنت کے خلاف جاری پابندیاں ختم کی جائیں
زابل شہر کے سنی خطیب اور جامعہ مفتاح العلوم زابل کے مہتمم مولانا حافظ عبدالرشید نے تہران نمازخانے کے مسمار ہونے پر شدید تنقید کرتے ہوئے دارالحکومت میں اہل سنت کے لیے مسجد کی تعمیر کو ان کی ضرورت قرار دیا۔
بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہاہے: عبادت کرنا ہر فرد کا مسلمہ حق ہے اور حکومتوں کو چاہیے اپنے شہریوں کے لیے عبادتگاہ بنانے کی راہ ہموار کردیں۔ انتہائی افسوس اور حیرت کا مقام ہے کہ الٹا ہمارے ایک نمازخانے کو مسمار کیا گیا۔ سیستان کے سنی مسلمان دیگر مسلمانوں کی طرح جلد ازجلد اہل سنت کے خلاف جاری مذہبی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

مولانا نقشبندی: نمازخانے کا مسمار ہونا خلاف شریعت و قانون ہے
بلوچستان کے شہر راسک کے خطیب، مولانا فتحی محمد نقشبندی نے اپنے خطبہ جمعہ میں پونک نمازخانے کو مسمار کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے شریعت اور قانون کے خلاف قرار دیا۔
حال ہی میں جیل سے رہائی پانے والے مولانا نقشبندی نے کہاہے: پارلمانی قرارداد کی رو سے ہر شخص اپنے گھر میں نمازخانہ بنانے اور جماعت کے اہتمام کرنے کا حق رکھتاہے؛ ایسے میں اس نمازخانے کو مسمار کرنا ملکی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ڈاکٹر جلالی زادہ: حکومت کے بجائے ہمیں شرم آتی ہے
تہران یونیورسٹی کے استاذ ڈاکٹر جلال جلالی زادہ نے اپنے ایک انٹرویو میں پونک نمازخانے کی تخریب کو ’انتہائی المناک‘ قرار دیتے ہوئے کہاہے: اگر تہران میں سنیوں کی کوئی مسجد ہو تو یہ نہ آئین کے خلاف ہے نہ ملکی مفادات سے متضاد! تہران پوری دنیامیں واحد دارالحکومت ہے جس میں اہل سنت کی کوئی مسجد نہیں۔ اس سے ہم سب کو بہت دکھ ہوتاہے۔
انہوں نے کہا: اہل تشیع کی امام بارگاہوں میں نوحہ سرائی کے لیے انہیں کوئی نہیں ملتا تو وہ کرایے پر ذاکر لیتے ہیں، مگر اہل سنت نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو انہیں مسجد اور نمازخانہ میسر نہیں! حقیقت میں ہمیں حکومت کی جگہ شرم محسوس ہوتی ہے۔
یاد رہے ان شخصیات کے علاوہ، سراوان کے سنی خطیب مولانا عبدالصمد ساداتی، سیاسی و سماجی کارکن عبدالسلام بزرگزادہ، سماجی کارکن اور بلوچ خاتون شاعر سعیدہ خاشی، صوبہ خراسان کے جامعہ احناف ’خواف‘ کے صدر مولانا حبیب الرحمن مطہری، زاہدان کے جامعہ اشاعت التوحیدکے مہتمم اور مخزن العلوم خاش کے صدر، اساتذہ و طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد نے اپنے بیانات میں اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔