Categories: عالم اسلام

سعودی عرب مسجد میں دھماکا، 22 افراد جاں بحق و زخمی

سعودی عرب کے جنوبی شہرأبھا میں جمعرات کو نمازِظہر کے وقت ایک مسجد میں خودکش بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں تیرہ سکیورٹی افسر جاں بحق اور دس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق خودکش بم حملے کا نشانہ بننے والی مسجد سعودی عرب کی اسپیشل فورسز کے زیر انتظام ہے اور خودکش حملہ آور نے نماز ظہر کی ادائی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے۔
سعودی عرب کے سرکاری نیوز چینل الاخباریہ نے بم دھماکے میں سترہ افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی ہے۔تاہم سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی کا کہنا ہے کہ بم دھماکے میں تیرہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔انھوں نے بم دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے خصوصی اسلحہ اور حربی یونٹ (ایس ڈبلیو اے ٹی، سوات) کے ارکان ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا ہے کہ بم دھماکا داخلی سکیورٹی کی ذمے دار سوات ٹیم کے ہیڈ کوارٹرز میں ہوا ہے۔سعودی وزارت داخلہ کے ایک عہدے دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والی مسجد أبھا میں ایمرجنسی سروسز کی پوسٹ کے زیر انتظام ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے مشرقی شہر الدمام میں مئی میں اہل تشیع کی مسجد العنود کے باہر ایک حملہ آور بمبار نے بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
اس سے پہلے 22 مئی کو سعودی عرب کے مشرقی صوبے القطیف میں واقع قصبے القدیح میں نمازجمعہ کی ادائی کے دوران اسی انداز میں اہل تشیع کی ایک مسجد میں خودکش بم حملہ کیا گیا تھا۔اس بم حملے میں اکیس افراد جاں بحق اور اسّی سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔
عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش سے وابستہ ایک سعودی سیل نے ان خودکش بم حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ سعودی حکام نے القدیح میں حملہ کرنے والے خودکش بمبار کی شناخت صالح بن عبدالرحمان صالح القشعمی کے نام سے کی تھی اور داعش سے وابستہ سیل کے چھبیس ارکان کو واقعے کے بعد گرفتار کرلیا تھا۔سعودی وزارت داخلہ کے مطابق خودکش بمبار کے داعش کے ساتھ روابط استوار تھے۔
سعودی عرب کی سکیورٹی نے مشرقی صوبے القطیف اور الدمام میں مساجد پر ان تباہ کن بم حملوں کے بعد جون اور جولائی میں کریک ڈاؤن کے دوران کل چار سو اکتیس افراد کو گرفتار کیا تھا۔ان کے خلاف اب عدالتوں میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

baloch

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

16 minutes ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago