کیا کسی کے مذہبی عقیدے پر کوئی پابندی لگائی جاسکتی ہے؟
یہ ایک اہم سوال ہے… اس سوال کا جواب یقینا یہی ہوگا کہ ہر ایک شخص کے لیے اس کا مذہبی عقیدہ اس کی اپنی شناخت کی ایک ایسی علامت ہوتا ہے جس پر اسے کسی بھی طرح کی پابندی گوارا نہیں ہوگی… ہمارا ملک ہندوستان ہر ایک ہندوستانی کو جہاں اپنے دین ومذہب پر عمل کی مکمل آزادی اور چھوٹ دیتا ہے وہیں یہ چھوٹ بھی دیتا ہے کہ ہر ہندوستانی اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزارے… اسی لیے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں پر متمکن سرکاری افسر ماتھے پر ٹیکے لگا کر دفتروں کو جاتے اور وہا ںٹنگی ہوئی دیوی دیوتائوں کی تصویر وں پر ہار پھول چڑھاتے ہیں اور باریش مسلمان باقاعدہ دفتروں یا کام کی جگہوں پر ہوتے ہوئے بھی اپنی پانچ وقت کی نمازیں ادا کرتے ہیں۔ سکھوں کو بھی یہ آزادی ہے کہ وہ پگڑیاں پہنے رہیں، داڑھیاں نہ کاٹیں اور وہ سکھ جو مذہبی عقیدے کے طور پر کرپان رکھتے ہیں انہیں کرپان رکھنے کی بھی چھوٹ ہے… عیسائیوں اور دوسری اقوام کو بھی یہ چھوٹ ہے کہ وہ اپنے مذہبی عقائد پر جمے رہیں۔
ہندوستان میں بھلے ہی ایسی حکومت ہے جو ’فرقہ پرستوں کی حکومت ‘کہلاتی ہے مگر مذہبی آزادی بڑی حد تک قائم ودائم ہے… ہاں یہ سچ ہے کہ کبھی کبھار چند سوامی، چند سادھو، چند سادھوئیاں اور چند سیاست داں اور فرقہ پرست تنظیموں کے لیڈروں کو منہ سے دل آزار اور اشتعال انگیز جملے ادا ہوجاتے ہیں، گھر واپسی کی بات کی جاتی ہے، سب ہندوستانیوں کو ’ہندو‘ قرار دینے کے لیے بڑی بڑی دلیلیں دی جاتی ہیں، مگر جب حکومت کے کرتا دھرتا ، یاجب خود بی جے پی کے وزیر اعظم نریندر مودی باتیں کرتے ہیں، بالخصوص غیر ملکوں میں تو بات ’سیکولرزم‘ ہی کی کرتے ہیں، یہی کہتے ہیں کہ ہندو، مسلمان، سکھ اورعیسائی آپس میں ہیں بھائی بھائی… اس پس منظر میں جب نظر سے ملک کے چیف جسٹس ایچ ایل دتّو کا یہ جملہ گزرا کہ ’’ایک دن حجاب یاٹوپی پہننے سے کسی کامذہبی عقیدہ ختم نہیں ہوجائے گا‘‘ تو دل کو بڑی تکلیف پہنچی… شاید میری ہی طرح سینکڑوں ہندوستانی ہوں گے جنہیں تکلیف پہنچی ہوگی ۔ یہ سچ ہے کہ حجاب نہ پہننے یا ٹوپی نہ لگانے سے کسی کا مذہبی عقیدہ ختم نہیں ہوگا کیوں کہ مذہبی عقیدہ حجاب یا ٹوپی میں نہیں خون میں شامل ہوتا ہے مگر ایک دن کے لیے بھی کسی کو اس کے مذہبی عقیدے سے روکنا، اس ملک کے سیکولرزم پر سوال ضرور کھڑا کردے گا… نہ صرف سوال کھڑا کرے گا بلکہ لوگوں کو اس اندیشے میں بھی مبتلا کردے گا کہ آگے چل کر کہیں ایسا نہ ہو کہ صرف ایک دن کے لیے نہیں کئی کئی دنوں بلکہ ہمیشہ کے لیے انہیں مذہبی عقائد پر عمل کرنے سے روک دیاجائے!
اگر کوئی بچی حجاب میں پری میڈیکل ٹیسٹ دے دیتی تو کیا قیامت آجاتی؟ حجاب پہننے کا مطلب یہ نہیں کہ پہننے والی ’دہشت گرد‘ ہے… حجاب پہننے کا مطلب سیدھے معنو ں میں یہ ہے کہ پہننے والی بے پردگی نہیں چاہتی ، وہ نہیں چاہتی کہ لوگوں کی نظریں اس پر مرکوز ہوں، وہ سیدھے سادے انداز میں قرآن پاک او رنبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مطابق خود کو بھٹکتی ہوئی نظروں سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے… اور یہ جرم نہیں ہے پھر بھلا حجاب اور ٹوپی سے نفرت کیوں ہے؟ یہ افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان میں حجاب او رٹوپی کو آج انتہاء پسندی اور دہشت گردی سے اور بنیاد پرستی سے جوڑ دیاگیاہے ، حوالے کے طور پر کہاجاتا ہے کہ یوروپ وغیرہ میں بھی پابندی عائد ہے۔ یوروپ میں تو عریانیت بھی ہے، سمندروں کے کنارے عریانی کے ساحل بھی ہیں اور ننگی فلمیں بھی بنتی ہیں۔ تو کیا یہ سب یہاں شروع کردیاجائے… ؟ ان لوگوں کو چاہئے کہ امریکہ کو بھی دیکھیں، صدر بارک اوبامہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ اس ملک میں مسلمان عورتیں جہاں چاہیں حجاب پہن کر جاسکتی ہیں اور جو روکے گا اسے سزا دی جائے گی۔ جمہوری اور سیکولر ملک کا سربراہ جب بولتا ہے تو اس طرح بولتا ہے، ہمارے مودی کی طرح اس کی زبان بند نہیں رہتی۔
شکیل رشید (فیچرایڈیٹر روزنامہ اردوٹائمز، ممبئی)
بصیرت فیچرس