ممتاز سنی عالم دین نے اسرائیل کو ایک ناجائز اور شیطانی ریاست یاد کرتے ہوئے کہا فلسطین کی آزادی کا واحد راستہ جہاد ہی ہے۔
ایران کے مشرقی شہر زاہدان میں سینکڑوں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے جمعہ دس جولائی دوہزار پندرہ (تئیس رمضان) کے خطبہ جمعہ کے ایک حصے میں مولانا عبدالحمید نے ’یوم قدس‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: فلسطین پر اسرائیلی قبضے سے کئی عشرے گزرچکے ہیں اور ابھی تک اس مسئلے کا حل نہیں نکلا ہے اور کوئی فلسطین کو صہیونی ریاست کے شکنجے سے نہیں نکال سکا۔
انہوں نے کہا: بہت سارے لوگوں کا خیال ہے مسئلہ فلسطین کا حل سیاسی ہے اور مذاکرات سے کوئی حل نکالا جاسکتاہے؛ یہ بالکل غلط نظریہ ہے، چونکہ اسرائیل ایک قبضہ گیر صہیونی ریاست ہے جو ہرگز منطق اور مکالمے پر یقین نہیں رکھتی ہے۔ اسرائیل نے زبردستی سے فلسطین پر اپنا قبضہ جمایاہے اور لوگوں کے گھر اور مکانات مسمار کرتا چلا آرہاہے۔
صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے جہاد کو فلسطین کی آزادی کا واحد راستہ یاد کرتے ہوئے کہا: سیاسی طریقوں سے اگر کوئی حل کارساز ہوتا تو اب تک فلسطین آزاد ہوچکا ہوتا۔ جہاد ہی سے اسرائیل کی کمر توڑی جاسکتی ہے۔ جہاد ان کے لوگوں کے خلاف ہے جو منطق اور مکالمے پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ جہاد سے اسرائیل کو تسلیم ہونے پر مجبور کیا جاسکتاہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: بندہ دہشت گردی و شدت پسندی کے خلاف ہے، لہذا کوئی مجھ پر الزام عائد نہیں کرسکتا۔ البتہ جو صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں ان کا علاج طاقت ہی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: فلسطین پر قبضے سے ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ گزرچکاہے اور ابھی تک فلسطینی عوام شکنجے میں ہیں۔ اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری کا کام جاری رکھا ہوا ہے اور مختلف شہروں کو یہودانے پر تلا ہواہے۔ اس کا مطلب ہے وہ اپنی قبضہ گیری پر خاتمہ نہیں دینا چاہتاہے۔ جو کہتے ہیں مذاکرات اور سیاسی طریقوں سے اسرائیل کو نکالا جاسکتاہے یا غدار ہیں یا نادان۔ صرف جہاد ہی اسرائیل کا علاج ہے۔
سابق سوویت یونین کے خلاف جہاد کے آثار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: جب سوویت یونین اور کمیونسٹوں نے افغانستان پر قبضہ جمایا تو جہاد ہی نے ان کی کمر توڑدی، نہ صرف افغانستان میں فاش شکست سے دوچار ہوئے بلکہ کل سوویت یونین بکھر گیا اور عالمی سطح پر کمیونسٹوں کو ہزیمت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاد کی برکت سے ریڈ آرمی کی ناک ہمیشہ کے لیے خاک میں ملادی گئی۔
انہوں نے مزیدکہا: مقدس اور شرعی جہاد نے سامراجی طاقتوں کو سخت نقصانات سے دوچار کیاہے۔ عراق و افغانستان پر قبضے سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ایسی فاش شکست کا سامنا کرنا پڑا کہ میرے خیال میں ناقابل تلافی ہے۔ چنانچہ آج امریکی حکام کو کسی بھی ملک خاص کر اسلامی ملک میں فوج اتارنے کی ہمت نہیں ہے اور وہ عسکری مداخلت سے گریزاں ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ جہاد سے انہیں ناقابل تلافی خسارے سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ اسی طریقے سے جہاد ہی کی برکت سے اسرائیل کو لگام لگایا جاسکتاہے۔
اپنے خطاب کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے نمازیوں سے درخواست کی دینی مدارس خاص کر جامعہ دارالعلوم زاہدان سے مالی تعاون کریں جن کا بھروسہ صرف عوامی چندوں پر ہے۔