- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

زکوٰۃ کے مصارف

زکوٰۃ کون لے سکتا ہے؟
سوال:کتنی مالیت رکھنے والا شخص زکوٰۃ لے سکتا ہے اور کتنی مالیت والے پر زکوٰۃ نہیں لگ سکتی؟ (اظہر۔ ملتان) جواب: سونے، چاندی، مال تجارت اور گھر میں روز مرہ استعمال کی چیزوں سے زائد سامان کی قیمت لگا کر اس میں نقدی جمع کی جائے، ان پانچوں کے مجموعہ یا ان میں سے بعض کے مجموعہ کی مالیت ۳۵ء ۶۱۲ گرام چاندی کی قیمت سے کم ہو تو ایسا شخص زکوٰۃ کا مستحق ہے وہ زکوٰۃ لے سکتا ہے اور اگر ان پانچوں یا ان میںسے بعض کا مجموعہ چاندی کے وزن مذکور کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہے تو ایسا شخص زکوٰۃ نہیں لے سکتا۔

ضرورت سے زائد لباس، ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر، یا ٹی وی اور وی سی آر جیسی خرافات انسانی حاجات میں داخل نہیں، اس لیے ان کی قیمت بھی حساب میں لگائی جائے گی۔

ایک غلط رواج کی اصلاح:
بہت سے مالدار لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے علاقوں میں سینکڑوں غریب ہوتے ہیں مگر یہ لوگ زکوٰۃ صرف اپنی برادری کی انجمن میں دیتے ہیں اور پھر وہ انجمن زکوٰۃ کی رقم قبرستان کی زمین خریدنے یا ہسپتال وغیرہ کی تعمیر پرخرچ کرتی ہے۔خوب سمجھنا چاہیے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مستحق زکوٰۃ فقیر کو مالک بنا کر دینا ضروری ہے، جس صورت میں تملیک نہ ہو مثلاً کوئی عمارت تعمیر کردی یا قبرستان خرید کر وقف کردیا، اس سے زکوٰۃ اداء نہیں ہوتی۔

پبلسٹی پر زکوٰۃ کی رقم لگانا:
آج کل بہت سے ادارے زکوٰۃ اور دوسرے عطیات جمع کرنے کے لیے زکوٰۃ کی بہت سی رقم پبلسٹی پر خرچ کر دیتے ہیں، حالانکہ پبلسٹی پر رقم لگانے سے زکوٰۃ اداء نہیں ہوتی، اس لیے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک ِفقیر شرط ہے جو اسمیں نہیں پائی جاتی۔

عشر و زکوٰۃ کو کن چیزوں میں صرف کرنا صحیح نہیں:
ہر اس چیز میں جس میں کسی مستحق زکوٰۃ کی تملیک (مالک بنانے)کی شرط نہ پائی جائے، خواہ وہ سرے سے مالک بننے کا اہل نہ ہو جیسے مسجد و مدرسہ کی تعمیر یا ہو لیکن مستحق نہ ہو جیسے صاحب ِ نصاب شخص کو دے دی تو اس طرح غیر مصرف میں رقم خرچ کرنے یا کوئی چیز دینے سے زکوٰۃ و عشر اداء نہیں ہوتے۔

لہٰذا مسجد و مدرسہ ہسپتال،اسکول کی تعمیر میں،سڑک وغیرہ بنانے میں، میت کے کفن میں، میت کی طرف سے قرض اداء کرنے میں اگر چہ حالت ِ حیات میں اس نے قرض کی ادائیگی کا حکم دیا ہو، زکوٰۃ و عشر دینا صحیح نہیں، اس سے زکوٰۃ و عشر اداء نہیں ہوتے، کیونکہ اس میں مالک بنانا نہیں پایا جاتا۔

مد ِزکوٰۃ سے خیراتی دواخانہ کھولنے کاحکم:
سوال: ہم اپنے محلہ میں ایک دواخانہ کھولنا چاہتے ہیں، جس کا خرچ زکوٰۃ اور چرم قربانی کے پیسوں سے چلانا ہے، اس میں مریضوں سے بھی کچھ پیسے وصول کیے جائیں گے اور وہ پیسے بھی دواخانہ ہی میں خرچ ہوں گے۔ پوچھنا یہ ہے کہ شریعت کی رو سے ا س طرح زکوٰۃ اداء ہوجاتی ہے یا نہیں؟ اور اس سے ہرشخص فائدہ اٹھا سکتا ہے یا نہیں؟(سعیداللہ۔ کراچی)
جواب: دواخانہ میں زکوٰۃ اور چرم قربانی کا مصرف صرف یہ ہے کہ اس رقم سے دوائیں خرید کرمساکین کومفت دے دی جائیں، اس مدسے دواخانہ کے ڈاکٹروں اور دوسرے کارکنوں کی تنخواہ، مکان کا کرایہ، تعمیر اور فرنیچر وغیرہ مصارف پر خرچ کرنا جائز نہیں، اس سے زکوٰۃ اداء نہیں ہوگی۔ مساکین سے مد زکوٰۃ سے خریدی ہو ئی دواؤں کے پیسے لینا اور وہ دوائیں غیرمساکین کو دینا جائز نہیں، بعض دواخانوں میں مد زکوٰۃ سے مریضوں کو خون دیا جاتا ہے، اس سے زکوٰۃ اداء نہیں ہوگی۔

جن رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں:
سوال:زید نے اپنی لڑکی فاطمہ کو جائیداد میں سے کوئی حصہ نہیں دیا، فاطمہ کی شادی کے بعد اولاد بھی ہوگئی، اب زید فاطمہ یا اس کی اولاد کو زکوٰۃ دے سکتا ہے؟ اگر زید کا انتقال ہوجائے تو فاطمہ کے بھائی اس کو یا اس کی اولاد کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں یا نہیں؟ (عبدالرحمن۔ مانسہرہ)
جواب:باپ اپنی بیٹی اور اس کی اولاد کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا، بھائی اپنی بہن اور اس کی اولاد کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔ زکوٰۃ کا وراثت سے کوئی تعلق نہیں، زید کے انتقال کے بعد لڑکی کو اس کا حق وراثت دینا لازم ہے۔ زندگی میں والد اولاد کو جائیداد وغیرہ دینا چاہے تو عام حالات میں لڑکوں اور لڑکیوں کو برابر دینا چاہئے، لڑکیوں کو محروم کرنے کی نیت سے سب جائیداد لڑکوں کو دے دیناہرگز جائز نہیں، تاہم والد نے زندگی میں فاطمہ کو کچھ دیا ہو یا نہ دیا ہو زکوٰۃ کا وہی حکم ہے جو اوپر بیان ہوا، مندرجہ ذیل رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں:
(۱) اصول: یعنی جن سے پیدا ہوا ہے۔ ماں،باپ، دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ۔سوتیلی ماں اصول میں داخل نہیں، لہٰذا اسے زکوٰۃ دینا جائز ہے۔
(۲) فروع: یعنی اولاد۔بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی وغیرہ۔
(۳) میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیںدے سکتے، طلاق کے بعد بھی جب تک عدت نہیں گذرجاتی زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔
’’ولا (یصرف) إلی من بینہما ولا دولو مملوکا لفقیر،أوبینہما زوجیۃ۔ (درمختار: ۲/۳۴۶)

زکوٰۃ دینے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ مصرف نہ تھا:
سوال:زید ہاشمی ہے، اس کو کسی نے زکوٰۃ دے دی تواب زید کے لیے کیا حکم ہے؟ جس نے زکوٰۃ دی ہے اس کو واپس کرے یا زکوٰۃ اداء ہوگئی؟ اگر کسی دوسرے غیر مصرف میں زکوٰۃ اداء کردی مثلاًمالدارکو دیدی تو کیا حکم ہے؟ (حمیداللہ۔ سوات)

جواب: اگر دینے والے نے غور و فکر کے بعد مصرف سمجھ کر زکوٰۃ دی تھی تو اس کی زکوٰۃ اداء ہوگئی، مگر زید کو اس کے زکوٰۃ ہونے کا علم ہوگیاتو اس پر لازم ہے کہ معطی(دینے والے) کو واپس کرے اور معطی دوبارہ زکوٰۃ اداء کرے، اگر واپس کرنا کسی وجہ سے ممکن نہ ہو تو مساکین پر صدقہ کردے اور اگر غور و فکر کے بغیر زکوٰۃ اداء کی یا غور و فکر کیا اور غیر مصرف ہونے کا گمان ہو ا یا شک رہا، اس کے باوجود زکوٰۃ اداء کردی تو اس صورت میں اگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مصرف تھا تو زکوٰۃ اداء ہوگئی اور اگر بعد میںمعلوم ہواکہ مصرف نہ تھا تو زکوٰۃ اداء نہیں ہوئی۔

تحریر ضرب مومن