- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

ماہ رمضان اصلاح و تزکیہ کے لیے بہترین موقع ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے رمضان المبارک کو اصلاح و تزکیہ کے لیے بہترین موقع یاد کرتے ہوئے اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کی تاکید کی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے جمعۃ المبارک تین جولائی دوہزار پندرہ (سولہ رمضان) میں زاہدانی سنی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو تین چیزوں سے آزمائش کی ہے اور صرف کامیاب و خوش نصیب لوگ اس امتحان میں سرخرو ہوکر نکلتے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی امتحان میں ناکامی انسان کی بربادی کے لیے کافی ہے۔
انہوں نے انسان کے تین اصلی دشمنوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: دنیا، نفس اور شیطان ایسی چیزیں ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالی نے ہمیں آزمائش میں مبتلا کیاہے۔ اللہ تعالی نے دنیا کو انسان کی آسودگی و آرام کے لیے بنایاہے اور بقدر ضرورت اسے طلب کرنے کی اجازت بھی ہے، لیکن اس سے دلی وابستگی اور ضرورت سے زیادہ محبت منع ہے۔ دنیا کی خاطر بندے کو اللہ سے غافل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: اگر کوئی شخص دنیا کے حصول کے لیے رشوت ستانی، چوری اور سودخوری جیسے گناہوں کی پرواہ نہیں کرتا تو وہ شخص دنیا کے عشق میں مبتلا ہوچکاہے۔ ایسی دنیا پر لعنت بھیجی گئی ہے۔ جو لوگ ہر قیمت پر دنیا حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ دنیا کے بندے ہیں اللہ کے نہیں؛ ایک حدیث شریف میں اللہ تعالی نے ’درہم و دینار کے بندے‘ پر لعنت بھیجی ہے۔ لہذا دنیا کے حصول میں اعتدال و میانہ روی کی رسی ہاتھ سے جانے نہیں دینی چاہیے۔
انہوں نے انسان کے دوسرے دشمن کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا: بندوں کا دوسرا خطرناک دشمن ’نفس‘ ہے۔ نفس امارہ انسان کو گناہوں اور برائیوں کی جانب راغب کرتاہے۔ اس نفس کی اصلاح و تزکیہ ضروری ہے تاکہ اسے صحیح رستے پر گامزن کیا جاسکے ورنہ یہ بہت خطرناک ہوسکتاہے۔ ظلم و قتل جیسے بڑے گناہوں کی جڑ نفس امارہ ہے۔ تکبر، غرور اور دیگر اخلاقی برائیاں نفس امارہ کے نتائج و ثمرات ہیں۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے ’شیطان‘ کو انسان کا تیسرا خطرناک دشمن یاد کرتے ہوئے کہا: شیطان انسانوں کا انتہائی خطرناک دشمن ہے جو ہرگز آرام نہیں کرتا اور اس کا کام دن رات لوگوں کی گمراہی کے لیے کوشش کرنا ہے۔ شیطان کا کام وسوسہ ڈالنا ہے تاکہ یوں انہیں گناہ کے ارتکاب پر آمادہ کرے۔
انہوں نے مزیدکہا: اگر اس امتحان میں کوئی کامیاب ہوا تو اس کا مقام جنت ہے اور وہ واقعی اللہ کا بندہ ہے، لیکن جو شخص ان تین چیزوں سے پرہیز نہیں کرتا اور گناہ ومعصیت کے دلدل میں پھنس جاتاہے وہ نفس وشیطان اور دنیا کا بندہ بن جاتاہے۔ جو شریعت پر عمل کرتاہے اور اپنے دشمنوں کی پیروی نہیں کرتا، وہ اللہ ہی کا بندہ ہوتاہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے رمضان کے سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے پر زور دیتے ہوئے کہا: رمضان اصلاح و تزکیہ کا مہینہ ہے۔ اس ماہ کا انسانی اصلاح و تزکیہ میں کلیدی کردار ہے۔ ہمیں اس ہر چیز سے اجتناب کرنا چاہیے جو روزہ کو نقصان پہنچاتاہے۔ ہر قسم کے گناہ سے دوری کریں اور اپنی اصلاح اخلاق و اعمال پر توجہ دیں۔
انہوں نے کہا: رمضان کا عشرہ اخیر آنے والاہے؛ اس عشرے میں زیادہ سے زیادہ عبادت کریں اور صدقہ کرنا مت بھولیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشرہ اخیر میں اپنی عبادت و سخاوت بڑھادیتے۔ ہمیں بھی ایسا کرنا چاہیے اور مسجدوں سے تعلق مزید مضبوط کرنا چاہیے۔

مساجد اور مذہبی مقامات پر حملہ اسلامی شریعت کے خلاف ہے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے دوسرے حصے میں مساجد و مذہبی مقامات پر حملے کو انتہاپسندی کے مصداق یادکرتے ہوئے ایسے اقدامات کو شریعت اسلام کے خلاف قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کویت میں ایک مسجد پر حالیہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا: اہل تشیع کی ایک مسجد پر حالیہ حملہ المناک اور ہلادینے والا واقعہ تھا۔ اس ہولناک حملے میں روزہ دار مسلمانوں پر حملہ کیا گیا۔
انہوں نے مزیدکہا: انتہاپسندی و شدت پسندی بہت خطرناک ہے۔ آج کل عالم اسلام کا سب سے بڑا چیلنج اور خطرہ انتہاپسندی ہے۔ بظاہر مسلمان افراد اپنے جسم سے بم باندھ کر خود سمیت کئی لوگوں کو قتل کرتے ہیں، یہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس کا احترام ضروری ہے۔ اللہ کے گھر اور روزہ رکھنے والے مسلمانوں کی بے حرمتی حکم الہی کے خلاف ہے۔
شیخ الحدیث و مہتمم دارالعلوم زاہدان نے کہا: نہ صرف کویت میں بلکہ بعض دیگر ملکوں میں بھی سب سے پرامن مقامات یعنی مساجد پر حملے ہوتے ہیں۔ اسلام سختی کے ساتھ مساجد اور مذہبی مقامات پر حملے کے خلاف ہے۔ یہ اسلامی شریعت کی خلاف ورزی ہے۔ اگر کوئی شخص قتل کا مرتکب ہوا ہے سزا کے مستحق ہے لیکن بے گناہ اور نہتے لوگوں کو مارنا انتہاپسندی ہی ہے جس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: اخیر سالوں میں عالم اسلام میں انتہاپسندانہ رجحانات میں اضافہ ہوا ہے۔ لہذا ہم سب کو چوکس رہنا چاہیے اور معاشرہ و نوجوانوں کو ہر قسم کی کوتہ نظری، شدت پسندی اور انتہاپسندی سے دور رہنے کی تلقین کرنی چاہیے۔ انتہاپسندی کسی بھی طبقے اور کسی بھی دیس میں ہو خطرناک اور قابل مذمت ہے۔

بڑے شہروں میں اہل سنت کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہونی چاہیے
ممتاز سنی عالم دین نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں ایرانی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: شیعہ وسنی حضرات اور حکام کو چوکس رہنا چاہیے، دشمن پرامن ملکوں میں بدامنی پھیلانے کی سازشیں کررہاہے جن میں ایران بھی شامل ہے۔ کہیں ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جس سے دشمن کو مسائل پیدا کرنے اور انتہاپسندی کو فروغ دینے کا بہانہ ہاتھ آجائے۔
انہوں نے مزیدکہا: اسی لیے ہماری درخواست ہے بڑے شہروں میں اہل سنت کے لیے نماز کے مسئلے میں پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے کسی کو اپنی ذاتی رائے نافذ کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ بڑے شہروں میں سنی باشندے گھروں اور کرایے کے مکانات میں نماز پڑھتے ہیں۔ اگر کسی پبلک مقام پر نماز ادا کرتے تو سرکاری اجازت کا کوئی مطلب ہوتا لیکن گھروں میں باجماعت نماز پر پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ تمام حکام خاص کر صدرمملکت سے جنہوں نے آئین نافذ کرنے کا حلف اٹھایاہے درخواست ہے سنی نمازیوں کی راہ رکاوٹ کھڑی کرنے کی اجازت نہ دیں۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے کہا: حکام کی رائے ہے اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہر مسلک کے پیروکار آزاد ہو۔ اتحاد کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دو مذہب یا مسلک ایک ہوجائیں۔ نماز کے مسئلے میں بعض فرق موجود ہیں اور اہل سنت کو اہل تشیع کے اقتدا میں نماز ادا کرنے پر کوئی مجبور نہیں کرسکتا۔ امید ہے ہمارے اس حق پر توجہ دے کر جمعہ و عیدین کی نماز پر کوئی قدغن نہیں لگائی جائے گی۔
مولانا عبدالحمید نے تاکید کرتے ہوئے کہا: خطرہ ہے کہیں کوتہ نظری اور قانون کے خلاف پابندیاں عائد کرنے سے شدت پسندی و انتہاپسندی کو فروغ نہ ملے اور ملک میں مسائل کھڑے نہ ہوں۔ لہذا ذمہ داری و سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔
اپنے خطاب کے آخر میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایران کے صوبہ گلستان میں ’یارمحمد آخوند نظری‘ اور پاکستانی صوبہ بلوچستان کے ضلع خاران میں مولانا عبدالشکور کے انتقال پرگہرے افسوس اور رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور متعلقین کے اجر وصبر کے لیے دعا کی۔