ترکی کے عام انتخابات میں حکمران جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے پر ترک وزیر اعظم نے کابینہ سمیت استعفیٰ دے دیا تاہم صدر نے انہیں نئی کابینہ کی تشکیل تک کام جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک وزیر اعظم احمد داؤد اوگلو نے عام انتخابات میں حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیولیپمنٹ پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے پر کابینہ سمیت استعفیٰ دے دیا جب کہ دوسری جانب صدارتی دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم اور کابینہ کا استعفی طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہے جس میں انتخابات کے بعد کابینہ مستعفی ہوجاتی ہے تاہم صدر نے وزیر اعظم اور کابینہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ نئی حکومت کے قیام تک کام جاری رکھیں گے۔
ترک صدر کی جانب سے آئندہ ہفتے انتخابات کے مکمل نتائج کے آنے تک نئی حکومت تشکیل دیئے جانے کا امکان ہے تاہم حکمراں جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث مخلوط حکومت بنانا پڑے گی۔
واضح رہے کہ ترک انتخابات میں حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو 41 فیصد ووٹ ملے جو کہ گزشتہ انتخابات سے 9 فیصد کم تھے جس کی وجہ سے وہ ایوان میں اپنی اکثریت کھو بیٹھی ہے جس کےباعث ترکی میں اس بار مخلوط حکومت تشکیل پانے کا امکان ہے تاہم مخلوط حکومت کا قیام عمل میں نہ آنے پر صدر 45 دن میں دوبارہ انتخابات کے اعلان کا اختیار رکھتے ہیں۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…